معاشروں کی ترجیحات کیسے بدلتی ہیں اس پر تو بہت وسیع اور بہت ہی زاویوں سے مباحث اور تحریریں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ جو ساٹھ سال سے ایک یا دو نسلیں پروان چڑھیں، کبھی کہیں ہم نے غور کیا کہ کیسے ہماری من حیث المعاشرہ ترجیحات بدلیں ؟ یا بدلی نہیں تو ان میں ایسا غیر محسوس تغیر آیا کہ اس معمولی سے خلا نے سفر کرتے کرتے نتائج بہت بڑی حد تک تبدیل کر دیے۔
ابلاغ عامہ کے مشہور دانشور اور محقق جارج گاربنر اس عمل کو کلٹیوییشن انیلسز کہتے ہیں، وہی اس تھیوری کے بانی بھی تھے۔ تھیوری کیا تھی کیا ہوگئی، اب مستعمل ہے بھی سہی یا نہیں، یہ تو ہو گئے ماس کمیونیکیشن والوں کے مباحث؛ لیکن آج ہم اس نظریے کے موجد بابا جی جارج گاربنر کو بھلا قصداً یاد کیوں کر رہے ہیں ؟ ذرا اس مدعے کی طرف آتے ہیں۔
یہاں یہ ذہن نشین کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ گاربنر کا یہ نظریہ دراصل لمبے عرصے کو ہی مستعمل گردانتا ہے، یعنی یہ دو اہم چیزوں کو واضح کرتا ہے کہ ایک تو ایسے نہیں کہ کسی نے کوئی پروگرام دیکھا اور بس اس کے خیالات بدل گئے، جذبات بدل گئے اور اس نے حالات بھی بدل ڈالے؛ بلکہ اس نظریے کا عرق اور اصل یہ کہتا ہے کہ آپ جو ٹی وی پر دیکھتے آئے، اس کے ساتھ بڑے ہوئے تو اس کہانی کار یعنی ٹی وی، بعد میں کیبل نیٹ ورک اور اب لیپ ٹاپ اور موبائل سکیرینز نے بڑی ہی باریکی سے آپ کے ذہن کی گوڈی کی، اور دوسری اہم چیز کہ یہ نظریہ اجتماعیت کو مخاطب کرتا ہے، نہ کہ انفرادیت کو، اسی لیے ہم نے من الحیث معاشرہ والی اصطلاح کا سہارا لیا۔
ذرا اور آگے گہرائی میں جائیں تو سامنے آئیں گی چار چیزیں :
ایک تو اس معاملے میں جزو لا ینفک ہے ٹی وی، یعنی فساد کی جڑ۔
دوسرا یہ کہ اس کو دیکھنے والے سارے کے سارے نہ کہ کوئی ایک۔
تیسری یہ کہ وہ بھی مختصر نہیں لمبے عرصے تک دیکھنے والے یعنی کوئی دن ہفتوں کی بات نہیں۔
چوتھی یہ تبدیلی کوئی 360 درجے کی یا فوری تغیر کو سامنے لاتی تبدیلی نہیں، بلکہ نہیف سی، غیر محسوس سی، بڑی ہلکی سے چھیڑ چھاڑ پر مبنی تبدیلی ہے، جو آپ کے ذہن میں ہوئی اور پھر اسی نظریے کے ایک اصول فرسٹ لیول افیکٹ کے تحت تاثر کے طور پر آپ کے ذہن سے چپکی اور پھر اسی نظریے کے ایک اور اصول یعنی دوسری سطح کے افیکٹ کے طور پر آپ کے افعال و اعمال کا حصہ بن گئی اور آپ کو معلوم ہی نہ ہوا کہ کیسے اور کب۔ میرے مطابق تو بات اس سے بھی آگے بڑھ گئی کہ تیسرا اور چوتھا مرحلہ بھی ہیں لیکن وہ پھر بات گہرائی کی گہرائی تک اور تحریر کی طوالت یعنی لمبائی پر چلی جائے گی۔
اب ہم ہیں دین کو بنیادی اہمیت دینے والا معاشرہ، لیکن ذرا غور کریں پچھلے عشروں میں آپ کے ٹی وی کی سکرین سے لے کر موبائل اور پلیٹ فارمز کی سکرین پر کس قدر دین نظر آتا ہے؟ حقیقت میں ہمارے عقیدے اور ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں، لیکن کہانی کی دنیا یعنی ٹی وی کی دنیا میں حالات ترجیحات اور معاملات کچھ اور ہیں۔
اب یہ ایک اور علیحدہ بحث ہے کہ اس سب کے پیچھے کون سی قوت کار فرما ہے، گوکہ اس نظریے کے بانیان اور ورثا تو منافعے اور کماو پن کو اس کا منبع گرداںتے ہیں، لیکن بڑے بڑے عیمق مشاہدے اور مجاہدے والے اذہان پڑے ہیں جو ذرا ہٹ کے اس معاملے کی جراحی کرتے ہیں۔ خیر اس بحث کو بھی ہمیں ادھر چھوڑنا پڑے گا۔ فی الحال تو ویسے اسی نظریے کی “مین ورلڈ سینڈروم” جیسی بحث کو بھی فی الوقت موخر کرنا پڑے گا۔
لیکن یہ جو ٹی وی نے سرمایہ دارانہ نظام کے بازو کے طور پر یا بعض لوگوں کے مطابق کسی سازشی طاقت یا مغربی ایجنڈے کے تحت پورے معاشرے کے ذہن میں خلل ڈالا ہے ناں وہ سیموئل بکٹ کے ڈرامے کے مشہور ڈائیلاگ “پاگل پن کے پیچھے تدبیر” کی یاد دلا دیتا ہے۔
چیزیں دھندلا کر ایسے پیش کی گئیں یا دور سے دکھائی جاتی رہیں کہ آپ کو لگا ہیں تو نظر میں لیکن آپ سے دور کی عینک لے لی گئی۔ یہی ہے اس نظریے کا خلاصہ، جیسے خود ہی دیکھ لیں آخرت کی تیاری کے معاملے پر پورے میڈیا کو دیکھ لیں، اس کی کس حد تک ترجیح ہے؟
پھر آپ یہ دیکھ لیں کہ ساری کامیابی اسی دنیا کی کامیابی کو ہی سمجھا جانے لگا، چاہے ہم جتنا مرضی کہتے رہیں اللہ کا دین ہمارے دل میں ہے، اس کا حکم سب سے پہلے ہے لیکن ذرا فی زمانہ کامیابی کے معیارات تو دیکھیے، پیسہ، آسائش، عہدہ، جائیدادیں اور اب ذرا دیکھ لیں کیا یہ کامیابی کے اصول معاشرے کی ترجیحات نہیں ؟
ذرا اور بھی دیکھتے رہیے کہ کلٹیوییشن کا نظریہ دیکھتے رہنے کا ہی تو نظریہ ہے۔ دیکھیے کہ یہ جو معیارات ہیں کامیابی کے، کیا انہی کے گرد آپ کی سکرین پر آنے والا مواد نہیں گھومتا ؟ تو کانٹنٹ کی بے خودی بے سبب نہیں پیارے اس کے پیچھے ہے آپ کا، میرا، ہمارے گھروں، محلے اور معاشرے کا سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ٹی وی ( اس ٹی وی کو آپ ڈبہ نہیں سوشل میڈیا کی ویڈیوز تک سب کچھ کا مجموعہ کر کے دیکھیں گے تو بات کھل پاے گی)۔
ذرا اس نظریے کے بانی کے خیالات کی طرف پھر سے واپس آئیں تو وہ کہتے ہیں کہ جو سکرین پر دکھتا ہے وہی موجود ہے اور جو نہیں دکھتا وہی مفقود ہے اور وہی غیر اہم بھی۔
اسی بابے کی کچھ اور باتوں کے مفہوم کی روشنی میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بھلے آپ کا دین آپ کی اولین ترجیح ہو، مبادا آپ ہوشیار ہو جائیں کہ بھئی یہ کیا ہو رہا ہے ؟ یہ ہمیں تو اسلام نام کی کوئی چیز نہیں دکھائی جا رہی تو اس کا بھی حل اس منتر کو اس نظریے کے تحت “ابہام” کا نام دیا گیا ہے۔
یعنی آپ کی سکرین سے اسلام بالکل غائب نہیں ہوا، لیکن اسے آپ کے لاشعور میں اہمیت کے مدار کے آخری کناروں پر دھکیل دیا گیا کہ آپ کو ڈراموں میں نکاح ہوتا نظر آجاتا ہوگا، کوئی نماز کا مصلیٰ، زیادہ سے زیادہ کوئی دعا اور بس آپ بھی مطمئن کہ نہیں میاں ہماری حقیقی ترجیحات سے تو جڑا مواد ہے، یہ بات آپ خود سے یا کسی سے کریں نہ کریں لاشعوری طور پر اس چھوٹے سے خلل کے طفیل آپ کا ذہن ضرور اس سے بہل جاتا ہے کہ بھئ میں اپنی اصل سے جڑا ہوں۔
پھر یہ نظریہ یہ بھی کہتا ہے کہ جتنا زیادہ اور جو کچھ بھی سکرین آپ دیکھیں گے دل دماغ اور افعال کی دیواروں پر وہ اتنی ہی قوت سے کندہ ہوگا تو یعنی پیسہ، پیار، بیوپار، گھربار، ساہوکار، بد کردار سب ٹھہرتے ہیں آپ کا معیار اور وہ سفر آخرت کی تیاری؟ اس کا خیال؟ کیا ہوا؟ گھوم گئے ناں؟ جی بالکل !
عشروں سے پنپتا ہلکا سا خلل کا جرثومہ آپ کی کامیابی کا معیار بدل گیا اور آپ کو معلوم بھی نہیں ہوا۔ اسی لیے ہم باتوں، کتابوں، ہمارے مذہب اور عقائد میں تو آخرت آخرت کی گونج دل و دماغ میں پیدا کرتے ہیں لیکن اصل کامیابی اندر ہی اندر کسی اور راہ کو گردانتے ہیں، پھر انہی خواہشات کی ناکامی میں آپ جوانوں کی پھندہ لگی لاشیں اور بھائیوں کی بھائیوں پر چلائی گئ گولیوں کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔
اس تھیوری کی بہت سی پرتیں جان بوجھ کر بھی اور تحریر کی طوالت کے ڈر سے نہیں چھیڑیں ورنہ ایسے ایسے زاویے سے دل و دماغ آشکار ہوتا ہے کہ انسان گنگ ہوکہ رہ جاتا ہے کہ یہ زمانہ ہمارے ساتھ کیا چال چل گیا۔
محمد نعمان اعوان
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











