پنجاب میں صنعتی ترقی اور برآمدات کے لیے 1,995 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع، کابینہ نے پیوٹ پروگرام منظور کرلیا

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 37ویں اجلاس میں صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے پیوٹ پروگرام، گرین ٹریکٹر اسکیم کے مختلف مراحل، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام اور متعدد دیگر منصوبوں کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں جام شہادت نوش کرنے والے افسران اور جوانوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی خوشدامن کے ایصال ثواب کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی۔

مزید پڑھیں:مریم نواز کی ہاؤسنگ اسکیم کو عالمی اعزاز، 2 لاکھ 30 ہزار افراد کو چھت مل گئی، عظمیٰ بخاری

صنعتی ترقی اور برآمدات کے لیے پیوٹ پروگرام

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس میں پنجاب کا پیوٹ پروگرام پیش کیا، جس کے تحت صوبے میں مجموعی طور پر 1,995 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس میں 1,089 ارب روپے سرکاری اور 906 ارب روپے نجی سرمایہ کاری شامل ہے۔ پروگرام سے ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

پروگرام میں صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعتی کلسٹرز، موجودہ صنعتوں کی سہولت کاری، مسابقتی برآمدات، ویلیو چین میں تبدیلی، زراعت اور لائیوسٹاک میں جدید مشینری کے استعمال، سرکاری و نجی شراکت داری، شمسی توانائی کی تنصیب اور مقامی سطح پر ہنرمندی کے فروغ کے منصوبے شامل ہیں۔

پیوٹ پروگرام کے تحت ای بز، ای کامرس، گارمنٹس، پلگ اینڈ پلے صنعتی سہولتوں، چمڑے اور جوتوں کی صنعت، کھیلوں کے سامان کی جانچ اور سرٹیفکیشن، کٹلری، ہاتھ سے بنے اوزار اور سرامکس کے شعبوں کو بھی ترقی دی جائے گی۔ پنکھوں کی صنعت کے لیے میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرنے کی تجویز بھی پروگرام کا حصہ ہے۔

باغبانی اور پھولوں کی کاشت سے وابستہ شعبوں کے لیے برآمدی مالی معاونت، آلو اور آم کی ویلیو ایڈیشن، زرعی پراسیسنگ پارکس، گندم کی قدر میں اضافے، گوشت اور دودھ کی ویلیو چین، سیاحت اور آبی زراعت کے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں زرعی پراسیسنگ پارکس قائم کیے جائیں گے، جبکہ مقامی اور عالمی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

20اضلاع میں باغبانی اتھارٹیز کے قیام کی منظوری

کابینہ نے پنجاب کے 20 اضلاع میں باغبانی اتھارٹیز کے قیام کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

گرین ٹریکٹر اسکیم کے لیے سبسڈی

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام کے ہائی پاور مرحلے پنجم کے لیے سبسڈی کی منظوری دی گئی۔ اسکیم کے لیے اڑھائی لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہونے کا بتایا گیا، جبکہ رجسٹریشن پر عائد تاخیر کی فیس معاف کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

حکومت پنجاب 10 ہزار ٹریکٹروں پر 9 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ 20 برس میں 10 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ اڑھائی سال کے دوران 44 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی عرصے میں زرعی مشینری پر سرکاری اخراجات 3 ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ 25 ہزار ٹریکٹر کاشتکاروں تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔

کابینہ نے تھل میں زرعی تبدیلی کے منصوبے کے لیے بھی سبسڈی منظور کی۔ منکیرہ اور لیہ میں 10 ہزار ایکڑ زرعی اراضی پر ڈرپ آبپاشی، شمسی توانائی، پانی ذخیرہ کرنے اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لیے 7 ارب 60 کروڑ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ گرین ٹریکٹر پروگرام کے لو پاور مرحلے چہارم کے تحت مزید 10 ہزار ٹریکٹر فراہم کرنے کے لیے بھی سبسڈی کی منظوری دی گئی۔

اپنی چھت اپنا گھر پروگرام

کابینہ نے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کی منظوری دے دی، جس کے تحت 60 ارب روپے کے ذریعے بینک آف پنجاب 40 ہزار قرضے فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پروگرام میں اسٹامپ ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔

اسپتالوں کے واجبات اور ٹریفک جرمانوں میں اضافہ

وزیراعلیٰ نے اسپتالوں میں طبی آلات کو فعال رکھنے کے لیے ضروری واجبات فوری ادا کرنے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ضروری واجبات کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی۔

اجلاس میں پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کے تحت ٹریفک جرمانوں میں ترامیم منظور کی گئیں۔ تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، پیدل کراسنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کئی گنا اضافے کی منظوری دی گئی۔

کلینک آن ویلز اور سرکاری بھرتیاں

کابینہ نے گلگت بلتستان کو 6 اور حکومت آزاد جموں و کشمیر کو 15 کلینک آن ویلز گاڑیاں عطیہ کرنے کی منظوری دی۔

مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لائیواسٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا

اجلاس میں ستھرا پنجاب اتھارٹی اور ایجنسی کی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے پابندی میں نرمی، پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی 17 خالی آسامیوں پر بھرتیوں اور گلوبل انویسٹمنٹ گیٹ وے آف پنجاب ونگ کے لیے خصوصی بھرتی کمیٹی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔

مزید برآں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی میں بھرتیوں پر پابندی میں نرمی، محکمہ امور نوجوانان و کھیل کے منصوبہ جاتی انتظامی یونٹ کی 70 آسامیاں پیدا کرنے اور منتقل کرنے، صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر میں 79 آسامیوں پر بھرتی، اسپیشل برانچ کے انٹیلیجنس کیڈر میں نئی بھرتیوں اور محکمہ اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ کے منصوبہ جاتی یونٹ میں 16 آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp