بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور خان نے اپنے رات کے معمول سے متعلق ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے جس کے بعد پیروں کے تلووں پر گھی لگانے کے روایتی طریقے پر توجہ بڑھ گئی ہے۔
کرینہ کپور نے اپنے شوہر سیف علی خان کے ہمراہ ٹی وی پروگرام ’دی گریٹ انڈین کپل شو‘ میں شرکت کے دوران بتایا کہ وہ سونے سے پہلے اپنے پیروں کے تلووں پر گھی لگاتی ہیں جس سے انہیں اچھی نیند لینے میں مدد ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرینہ کپور اور سیف علی خان میں سے ’آئی لو یو‘ پہلے کس نے بولا؟
پروگرام کے دوران جوڑے سے ان کی غذائی عادات اور جوان نظر آنے کے راز کے بارے میں سوال کیا گیا تو سیف علی خان نے بتایا کہ گھی ان کے گھر میں کھانوں کے علاوہ روزمرہ معمولات کا بھی حصہ ہے۔
پیروں پر گھی لگانے کے ممکنہ فوائد
ذہنی سکون: سونے سے پہلے پیروں کی ہلکی مالش دن بھر کی تھکن کے بعد سکون حاصل کرنے اور آرام دہ معمول اپنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
خشک جلد میں بہتری: گھی میں موجود چکنائی جلد پر حفاظتی تہہ بنا سکتی ہے جس سے نمی کے ضیاع میں کمی اور پیروں کے تلووں کو نرم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تھکے ہوئے پیروں کو آرام: زیادہ دیر تک کھڑے رہنے، پیدل چلنے یا غیر آرام دہ جوتے پہننے کے بعد ہلکی مالش سے عارضی سکون محسوس ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا کرینہ کپور رمضان المبارک میں روزے رکھتی ہیں؟ اداکارہ نے کھل کر بتادیا
ذہنی دباؤ میں کمی کا احساس: سونے سے پہلے چند منٹ پیروں کی مالش، مدھم روشنی اور پرسکون ماحول کے ساتھ مل کر آرام کے معمول کو بہتر بنا سکتی ہے۔
کھردری ایڑیوں کی نگہداشت: پیروں کی خشک اور کھردری جلد پر تھوڑی مقدار میں گھی لگانے سے اسے نرم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رات کو پیروں پر گھی لگانے کا طریقہ
اس روایتی طریقے کو اپنانے کے لیے پہلے پاؤں دھو کر اچھی طرح خشک کرلیں، خصوصاً انگلیوں کے درمیان نمی باقی نہ رہنے دیں۔ اس کے بعد تھوڑی مقدار میں خالص گھی لے کر پیروں کے تلووں اور ایڑیوں پر تین سے پانچ منٹ تک نرمی سے مالش کریں۔ ضرورت کے مطابق سوتی جرابیں بھی پہنی جا سکتی ہیں۔
کیا گھی لگانے سے واقعی نیند بہتر ہوتی ہے؟
اگرچہ پیروں پر گھی لگانے کو ایک روایتی طریقۂ نگہداشت سمجھا جاتا ہے تاہم اس بات کے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں کہ صرف گھی لگانے سے نیند بہتر ہوتی ہے، بے چینی کم ہوتی ہے یا پیروں میں جلن کا علاج ممکن ہے۔
اس عمل کا زیادہ قابلِ فہم فائدہ خشک جلد کو نرم کرنا اور ہلکی مالش کے ذریعے عارضی سکون حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا اسے ذاتی نگہداشت کے ایک معمول کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے لیکن اسے کسی بیماری کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔











