پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے سانحے کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا کے 18 سرکاری اسکولوں کے 54 کمرے انتہائی خستہ حال ہیں اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ 6 اسکول ایسے بھی ہیں جو سرے سے قابلِ استعمال نہیں ہیں۔
پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 33 طلبہ و طالبات سمیت 34 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد محکمہ تعلیم نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کے احکامات جاری کیے۔
محکمہ تعلیم کی ابتدائی معلومات کے مطابق خیبرپختونخوا کے 18 سرکاری اسکولوں میں 54 کمرے انتہائی خستہ حال ہوچکے ہیں اور ان کے کسی بھی وقت منہدم ہونے سے بڑا سانحہ پیش آنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں 6 اسکول ایسے بھی ہیں جن کی عمارتیں کسی بھی طور پر قابلِ استعمال نہیں ہیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق خیبرپختونخوا میں 34 ہزار سے زائد سرکاری اسکول ہیں، جہاں 60 لاکھ سے زیادہ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا عمل 26 اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت متاثرہ اسکولوں کی بحالی اور مرمت کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی۔










