پاکستان کے قرضوں میں روزانہ 20 ارب روپے اضافے کی حقیقت کیا ہے؟ وزارت خزانہ نے وضاحت کردی

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارت خزانہ نے حکومتی قرضوں میں روزانہ 20 ارب روپے اضافے سے متعلق خبر پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں میں مجموعی اضافے کو دنوں کی تعداد پر تقسیم کرکے روزانہ قرض گیری ظاہر کرنا حقائق اور پاکستان کے عوامی قرضوں کی حقیقی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومتی قرضوں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا موازنہ ملکی معیشت کے حجم، یعنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سے کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کے قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 2023 کے اختتام پر 75 فیصد تھا، جو مالی سال 2026 کے اختتام تک کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ حکومتی قرضوں میں اضافے کی سالانہ شرح مالی سال 2023 میں تقریباً 26 فیصد تھی، جو مالی سال 2026 میں نمایاں کمی کے بعد 7.7 فیصد کی سطح پر آگئی۔

وزارت کے مطابق مالی سال 2026 میں حکومتی قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی، جبکہ مالی سال 2007 سے 2026 کے دوران قرضوں میں اضافے کی اوسط سالانہ شرح 16.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اگست 2026 میں حکومتی قرضوں میں 689 ارب روپے کی کمی

وزارت خزانہ کے مطابق اگست 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت کے قرضوں میں جون 2026 کے مقابلے میں تقریباً 689 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔

وزارت نے واضح کیاکہ قرضوں کی صورتحال کا درست اندازہ صرف ان کی مجموعی مالیت سے نہیں بلکہ معیشت کے حجم کے مقابلے میں ان کے تناسب اور اضافے کی رفتار سے لگایا جانا چاہیے۔

بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 33 سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا

وزارت خزانہ کے مطابق حکومتی بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ مالی سال 2023 میں یہ تناسب 33 فیصد تھا، جو مالی سال 2026 کے اختتام تک کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا۔

وزارت نے بتایا کہ مالی سال 2022 کے اختتام پر پاکستان کے حکومتی بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر تھے، جو مالی سال 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 106.8 ارب ڈالر ہوگئے۔ اس طرح اس عرصے کے دوران بیرونی قرضوں میں اوسط سالانہ اضافہ محض 1.7 ارب ڈالر رہا۔

اس کے برعکس مالی سال 2015 سے 2022 کے دوران حکومتی بیرونی قرضے 54.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر تک پہنچے تھے، یعنی اس عرصے میں بیرونی قرضوں میں اوسط سالانہ اضافہ تقریباً 6.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2 ہزار ارب روپے کی کمی

وزارت خزانہ نے بتایا کہ حکومتی قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ مالی سال 2025 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات تقریباً 8 ہزار 900 ارب روپے تھے، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر تقریباً 6 ہزار 900 ارب روپے رہ گئے۔

وزارت کے مطابق مجموعی وفاقی محصولات کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی کا تناسب مالی سال 2023 میں 64 فیصد تھا، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر 38 فیصد رہ گیا۔

حکومت نے 5 ہزار 920 ارب روپے سے زائد کے مہنگے قرضے قبل از وقت واپس کیے

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مالی سال 2025، مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے ابتدائی عرصے کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 5 ہزار 920 ارب روپے سے زائد کے مہنگے قرضے مقررہ مدت سے پہلے واپس کیے۔

وزارت نے بتایا کہ اندرونی قرضوں کی اوسط میعاد بھی بڑھائی گئی ہے، جو مالی سال 2024 میں 2.7 سال تھی اور اب بڑھ کر تقریباً 4 سال ہوگئی ہے۔ اس اقدام سے قرضوں کی واپسی کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوگئے

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور ستمبر 2026 تک یہ بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ اس سے قبل زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

وزارت خزانہ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ حکومتی قرضوں میں مجموعی اضافے کو دنوں کی تعداد پر تقسیم کرکے روزانہ 20 ارب روپے قرض لینے کا تاثر دینا ملک کی قرضوں کی حقیقی صورتحال کی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔

وزارت کے مطابق پاکستان میں قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہوا ہے، قرضوں میں اضافے کی رفتار سست پڑی ہے، قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں کمی آئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp