خیبرپختونخوا حکومت کا باب بند ہوچکا، اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی سابق صوبائی حکومت سے متعلق اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، اس حکومت کا باب بند ہوچکا ہے اور ٹرین اسٹیشن چھوڑ چکی ہے۔ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے مطابق کیا گیا، جبکہ دہشتگردی میں اضافے کے باعث اس اقدام کا ٹھوس جواز موجود تھا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سابق حکومت دہشتگردوں کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی اور ان کے لیڈر نے ہی دہشتگردوں کو واپس لا کر آباد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: گورنر راج کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور کتنا اہم ہے، کن اعلانات کی توقع ہے؟

انہوں نے کہاکہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا تھا، جس کے بعد ایمرجنسی نافذ کرنے کا ٹھوس جواز موجود تھا۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مکمل طور پر آئین کے مطابق کیا گیا ہے۔

عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایریا ریفارمز اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) تشکیل دی جا چکی ہے اور صوبے میں باصلاحیت افراد پر مشتمل ایک اچھا انتظامی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے۔

’سہیل آفریدی گرفتار نہیں، حفاظتی تحویل میں ہیں‘

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا، تاہم انہیں نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی اس وقت خیبرپختونخوا میں ہی پولیس کی تحویل میں موجود ہیں۔

عطااللہ تارڑ نے کہاکہ جب خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات پیش آ رہے تھے تو اس وقت سہیل آفریدی احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ سہیل آفریدی ماضی میں بھی پرتشدد احتجاج کی قیادت کر چکے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیاکہ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا میں ایک مقام سے گزرنے کے لیے دہشت گردوں سے محفوظ راستہ مانگا تھا۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کو تحویل میں لیے جانے کے وقت شفیع جان اور دیگر افراد فرار ہوگئے تھے۔

’خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر شکر ادا کیا‘

عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ اس کے احتجاج میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے، لیکن خیبرپختونخوا کے عوام نے صوبائی حکومت کے خاتمے پر شکر ادا کیا۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا سخت مؤقف اصولی اختلاف یا سیاسی حکمت عملی؟ تجزیہ کاروں کی رائے سامنے آگئی

انہوں نے دعویٰ کیاکہ گیلپ سروے سے بھی ثابت ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اقدام پر خوش ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیاکہ خیبرپختونخوا کی سابق حکومت سے متعلق مذاکرات کا باب اب مکمل طور پر بند ہوچکا ہے اور اس حوالے سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp