خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 99 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد رواں سال صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 ہزار 91 ہوگئی ہے۔
اکتوبر میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں اضافے کے باعث کوہاٹ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بن گیا ہے، جہاں رواں سال اب تک 2 ہزار 567 کیسز سامنے آچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈینگی سے متاثرہ ٹانک کے ایک شہری کی موت بھی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں ڈینگی کے 11 نئے کیسز رپورٹ، مجموعی تعداد 1372 تک پہنچ گئی
انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران رپورٹ ہونے والے 99 نئے کیسز رواں سال کی بلند ترین یومیہ تعداد ہیں۔
کوہاٹ میں ڈینگی کے 2 ہزار 567، پشاور میں 566، بنوں میں 192، خیبر میں 120، ہری پور میں 112، چارسدہ میں 75، ایبٹ آباد میں 71، نوشہرہ میں 51، کرک میں 43، مانسہرہ میں 38، ڈیرہ اسماعیل خان میں 35، صوابی میں 28 اور مہمند میں 14 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ دیگر اضلاع میں متاثرہ افراد کی تعداد 10 سے کم ہے۔
مشیر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کا ڈینگی بخار سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ویڈیو پیغام pic.twitter.com/L2XIcDaJAE
— Information Department KP (@infokpgovt) October 19, 2026
رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں ڈینگی کے کیسز میں اضافے نے محکمہ صحت کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
یکم اکتوبر سے اب تک کوہاٹ میں 80، بنوں میں 24 اور پشاور میں 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، کوہاٹ میں ڈینگی کے پھیلاؤ کے باعث اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر محکمہ صحت نے بیماری پر قابو پانے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوبے میں ڈینگی کے 144 فعال کیسز ہیں، جبکہ رواں سال 3 ہزار 946 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھیں: رواں سال کے دوران اسلام آباد میں اب تک ڈینگی کے کتنے کیس رپورٹ ہوئے؟
ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال صورت حال نسبتاً بہتر ہے۔ گزشتہ سال صوبے میں ڈینگی سے 6 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے، جن میں ایک ہزار سے زیادہ کیسز چارسدہ میں سامنے آئے تھے۔
اس وقت چند یونین کونسلوں میں وبا پھیلنے کے باعث چارسدہ نمایاں طور پر متاثر ہوا تھا، تاہم رواں سال کوہاٹ ڈینگی کا نیا مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق محکمہ صحت نے کوہاٹ میں کیسز کی غیر معمولی تعداد کی وجوہات کی نشاندہی بھی کی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتے ڈینگی کی روک تھام کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار موسمی حالات مزید انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
ان کے مطابق حکومت ہر سال ڈینگی سے بچاؤ کا منصوبہ تیار کرتی ہے اور سال 2026 کا ایکشن پلان بھی بروقت جاری کیا گیا، جس کے نتیجے میں سال کے آغاز ہی سے فیلڈ سرگرمیاں شروع کردی گئی تھیں۔
ماہرین نے بتایا کہ محکمہ صحت 2017 سے ڈینگی ایکشن پلان پر عمل درآمد کر رہا ہے اور ہر سال گزشتہ منصوبے کا جائزہ لے کر ضروری تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور عوامی آگاہی مہمات اس منصوبے کے بنیادی ستون ہیں، جن کا مقصد ڈینگی کے پھیلاؤ کو کم کرنا اور اس بار بار سامنے آنے والے صحت عامہ کے خطرے پر قابو پانا ہے۔











