پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے ابتدائی اوقات میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جہاں انڈیکس میں تقریباً 200 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 10 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 160.48 پوائنٹس یعنی 0.10 فیصد اضافے کے بعد 166,126.56 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 160 پوائنٹس سے زائد اضافہ
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبوں میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا۔
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، سوئی سدرن گیس کمپنی، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے اہم شیئرز مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +372.44 points this morning. Current index is at 166,338.53 points (9:45 AM) pic.twitter.com/RP8T2OQqYb— Investify Pakistan (@investifypk) October 20, 2026
دوسری جانب پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے تخمینوں کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں 3.65 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے پہلے تخمینے 3.70 فیصد سے قدرے کم ہے۔
واضح رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوسرے نصف حصے میں فروخت کا دباؤ بڑھنے کے باعث ابتدائی تیزی ختم ہوگئی تھی اور انڈیکس 166,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا تھا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 453.63 پوائنٹس یا 0.27 فیصد کمی کے بعد 165,966.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈیوں میں منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں عمومی مندی دیکھی گئی، جبکہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
سرمایہ کار مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کے اہم مالیاتی نتائج کے منتظر ہیں۔
فرانس میں ہنگاموں کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی طلب بڑھنے سے امریکی ڈالر یورو کے مقابلے میں مستحکم رہا۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ امن معاہدے کی امیدیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا، کیونکہ مارکیٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتظامی حکم نامے کے اثرات کا جائزہ لے رہی تھی جس کے تحت روسی توانائی کے شعبے سے متعلق بعض پابندیوں اور محصولات میں چھوٹ دی گئی۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب بڑی کمپنیوں کے مالیاتی نتائج پر مرکوز ہے، جن سے صارفین کے اخراجات اور مجموعی معیشت کی مضبوطی کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ کا اصل سبب کیا ہے؟
میٹا کے نتائج بدھ کو جاری کیے جانے ہیں، جبکہ ٹیسلا اور چِپ ساز کمپنیوں لیم ریسرچ اور ٹیکساس انسٹرومنٹس کے نتائج بھی رواں ہفتے متوقع ہیں۔
ایم ایس سی آئی ایشیا ایکس جاپان انڈیکس میں 0.93 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.28 فیصد نیچے آگیا۔
جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.61 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔











