کینیڈا کے تیل سے مالا مال صوبے البرٹا میں عوام آج اس بات پر ووٹ دے رہے ہیں کہ آیا صوبہ کینیڈا سے علیحدگی کے لیے حتمی ریفرنڈم کرانے کا قانونی عمل شروع کرے یا کینیڈا کا حصہ برقرار رہے۔
مزید پڑھیں:کینیڈا کے فوجی اڈے میں آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے خبردار کیا ہے کہ علیحدگی کے حامیوں کی کامیابی سے ملک میں غیر یقینی صورتِحال پیدا ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی جاری ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صوبے کی ایک چوتھائی سے بھی کم آبادی مکمل آزادی کی حامی ہے، تاہم علیحدگی کے حامیوں کی انتخابی مہم اور ووٹرز کی شرکت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کارنی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے میں غفلت نہ برتیں۔
🚨 WOW! The Conservative province of Alberta is VOTING to begin the process of seceding from Canada on October 19th
If it succeeds, Alberta will begin the process of seceding, pending a final vote next year
SEC. SCOTT BESSENT has ENCOURAGED Alberta, noting they want sovereignty from the leftists in Canada 🔥
SECEDE! USA will GLADLY take you, we’d likely even get 2 GOP senators 🇺🇸
Hopefully this passes!
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) August 17, 2026
البرٹا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے علاقوں میں شامل ہے۔ علیحدگی کی تحریک کو صوبے کے تیل کے شعبے سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر ناراضی سے تقویت ملی ہے۔ بعض شہریوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں صوبے کی توانائی کی صنعت اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
صوبائی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کی حامی ہیں، تاہم انہوں نے علیحدگی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی تقسیم ختم کرنے کے لیے ووٹنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اگر ووٹرز قانونی عمل شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تو اس کے بعد علیحدگی پر حتمی اور پابند ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:کینیڈا کا اتحاد، امریکا کا بائیکاٹ: عوام نے اپنی مصنوعات کو گلے لگا لیا، امریکی سفر بھی منسوخ
ووٹنگ کے نتائج سے کینیڈا کی قومی وحدت، صوبے کی معیشت اور وفاقی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات پر اہم اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم موجودہ ووٹنگ بذاتِ خود البرٹا کی آزادی کا فیصلہ نہیں ہے۔











