تیل سے مالا مال کینیڈین صوبے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر ووٹنگ

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیڈا کے تیل سے مالا مال صوبے البرٹا میں عوام آج اس بات پر ووٹ دے رہے ہیں کہ آیا صوبہ کینیڈا سے علیحدگی کے لیے حتمی ریفرنڈم کرانے کا قانونی عمل شروع کرے یا کینیڈا کا حصہ برقرار رہے۔

مزید پڑھیں:کینیڈا کے فوجی اڈے میں آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے خبردار کیا ہے کہ علیحدگی کے حامیوں کی کامیابی سے ملک میں غیر یقینی صورتِحال پیدا ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی جاری ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صوبے کی ایک چوتھائی سے بھی کم آبادی مکمل آزادی کی حامی ہے، تاہم علیحدگی کے حامیوں کی انتخابی مہم اور ووٹرز کی شرکت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کارنی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے میں غفلت نہ برتیں۔

البرٹا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے علاقوں میں شامل ہے۔ علیحدگی کی تحریک کو صوبے کے تیل کے شعبے سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر ناراضی سے تقویت ملی ہے۔ بعض شہریوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں صوبے کی توانائی کی صنعت اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

صوبائی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کی حامی ہیں، تاہم انہوں نے علیحدگی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی تقسیم ختم کرنے کے لیے ووٹنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اگر ووٹرز قانونی عمل شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تو اس کے بعد علیحدگی پر حتمی اور پابند ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:کینیڈا کا اتحاد، امریکا کا بائیکاٹ: عوام نے اپنی مصنوعات کو گلے لگا لیا، امریکی سفر بھی منسوخ

ووٹنگ کے نتائج سے کینیڈا کی قومی وحدت، صوبے کی معیشت اور وفاقی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات پر اہم اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم موجودہ ووٹنگ بذاتِ خود البرٹا کی آزادی کا فیصلہ نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp