ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم ایک آدھ جماعت کے سوا تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ 18ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی اکائیوں، یعنی صوبوں میں وزرائے اعلیٰ کی آمریت قائم ہوگئی ہے، جنہوں نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل روک رکھا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 140 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
گزشتہ روز ایک مقامی تھنک ٹینک کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر کی نمایاں سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور اس بات پر ان کے درمیان اتفاقِ رائے پایا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہو گئے ہیں اور صوبوں نے یہ اختیارات نیچے تقسیم نہیں کیے۔
نئے صوبوں سے متعلق ملک بھر کے سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ بحث بہت تواتر سے چل رہی ہے کہ پاکستان کو نئے انتظامی یونٹس بنائے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ وفاقی اکائیاں اپنی آبادی اور رقبے کے اعتبار سے بہت بڑی ہیں اور ان کا مؤثر انتظام چلانا مُشکل کام ہے۔
ایک طرف جہاں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے وہیں پر یہ بات بھی شد و مد کے ساتھ ہو رہی ہے کہ چونکہ صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کا نظام چلنے نہیں دیا نہ ہی اسے بااختیار بنایا تو اِس لیے نئے صوبوں کی بات ہورہی ہے۔
کیا مالیاتی طور پر نئے صوبے قابل عمل آئیڈیا ہے؟
اس کے ساتھ یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا نئے صوبوں کا قیام مالی اعتبار سے قابلِ عمل ہوگا؟ کیونکہ اس کے لیے نئے سیکریٹریٹ، وزرائے اعلیٰ ہاؤسز، گورنر ہاؤسز اور اسمبلیوں کی نئی عمارتیں تعمیر کرنا پڑیں گی، جن پر بھاری اخراجات آئیں گے۔ دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر نئے صوبے قائم ہونے کے باوجود وہاں مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل نہ دیا گیا تو ان کے قیام سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
نئے صوبوں پر بحث کے تین پہلو
اس بحث کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا مؤقف ان سیاسی قوتوں کا ہے جو نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتی ہیں، جن میں متحدہ قومی موومنٹ سب سے زیادہ سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ دوسرا مؤقف ان جماعتوں کا ہے جو نئے صوبوں کے قیام کی سخت مخالف ہیں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نمایاں ہے۔ تیسرا مؤقف ان حلقوں کا ہے جو نئے صوبے بنانے کے بجائے بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام کی بحالی چاہتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا مؤقف
نئے صوبوں کے قیام یا موجودہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر سب سے زیادہ سخت مزاحمت پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے سامنے آئی، جس نے صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی منظور کی، جس میں سندھ کی تقسیم کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
تاہم دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے مختلف رہنما، بالخصوص قمر زمان کائرہ واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک میں جہاں بھی عوام نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ کریں گے، پیپلز پارٹی ان کی حمایت کرے گی۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ڈویژنز کی بنیاد پر صوبے بنا دیے جائیں تاکہ فنڈز کی تقسیم منصفانہ انداز میں ہو سکے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں، جن میں ایک سخت مؤقف پنجاب کی تقسیم کی مخالفت پر مبنی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ سال اکتوبر میں یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب کی بات کرتے ہیں، وہ پنجاب کے دوست نہیں ہوسکتے۔ ان کے نزدیک پنجاب ایک متحد اور ناقابلِ تقسیم اکائی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اگر صوبوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس اصول کا اطلاق تمام صوبوں پر یکساں طور پر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پنجاب پہلے بھی تقسیم ہوچکا ہے اور اب اسے مزید تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثنااللہ بھی بنیادی طور پر پنجاب کی تقسیم کے مخالف ہیں، تاہم ان کے بیانات میں مخالفت کی وہ شدت نظر نہیں آتی۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بات چیت اسمبلی میں ہوگی، جبکہ اب تک اس حوالے سے کوئی بل اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق 2012 میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام سے متعلق منظور کی گئی قراردادیں بھی غیر مؤثر ہوچکی ہیں۔
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما و وزیر دفاع خواجہ آصف اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کی حمایت کرتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہیں کہ سرائیکی صوبے کی حمایت جبکہ سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) ہی کے وفاقی وزیر اویس لغاری کا مؤقف ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کا قیام ان کی جماعت کے منشور کا حصہ ہے۔
انہوں نے 2 ستمبر 2026 کو کہا تھا کہ نئے صوبے لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے انتظامی بنیادوں پر قائم کیے جانے چاہییں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے اندر نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث شروع کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف
پاکستان تحریکِ انصاف کا مؤقف اس سلسلے میں زیادہ واضح نہیں کہ ایسا لازمی ہونا چاہیے یا نہیں لیکن ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کا اختیار پارلیمان کو ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا مؤقف ہے کہ سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر نئے صوبے قائم نہیں کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے 6 اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم ان کے قیام کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور متعلقہ اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔
بعد ازاں 7 ستمبر کو انہوں نے خبردار کیا کہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر کسی صوبے کی تقسیم وفاق کو کمزور کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے، تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے اور 18ویں آئینی ترمیم کی طرز پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق فیصلے آئین کے مطابق ہونے چاہییں اور یہ اختیار عوام کی منتخب پارلیمان کو حاصل ہے کہ وہ نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کرے۔
انہوں نے مجوزہ آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھایا جارہا ہے اور ان کی جماعت اس نئی ترمیم کی مخالفت کرے گی۔
خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف اپنے بانی عمران خان کی واضح منظوری کے بغیر نئے صوبوں کے قیام کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس معاملے پر سندھ کے عوام کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان بھی کیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق آئینی طریقۂ کار تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جس طرح 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی مخالفت کرچکی ہے، اسی طرح مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی بھی مخالفت کرےگی۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مؤقف ہے کہ وہ اصولی طور پر نئے صوبوں کے قیام کے مخالف نہیں ہیں، تاہم ان کے نزدیک موجودہ حالات میں صوبوں کی تقسیم کے لیے نہ تو سازگار ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ضروری تیاری کی گئی ہے۔










