برطانوی پولیس نے ایران کی انٹیلیجنس سروس کی معاونت کے شبے میں 2 افراد کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں افراد پر شبہ ہے کہ وہ انگلینڈ میں امریکی زیرِ استعمال فضائی اڈے کے قریب پیش آنے والے واقعے سے متعلق تحقیقات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:’پراسرار تنظیم‘ فری میسنری: برطانوی پولیس اپنی پالیسی پر ڈٹ گئی، آخر معاملہ کیا ہے؟
الجزیرہ اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، گرفتار افراد میں 24 سالہ برطانوی شہری اور 25 سالہ دوہری شہریت کے حامل برطانوی ایرانی شہری شامل ہیں۔ دونوں کو برطانیہ کے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کی معاونت کے شبے میں دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ معاملہ 27 ستمبر کو گلوسٹرشائر میں واقع رائل ایئر فورس کے فضائی اڈے فیئرفورڈ کے قریب پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اڈے کے قریب 3 مشتبہ وین موجود ہیں۔ بعد ازاں ان گاڑیوں سے آتش گیر مادہ، یعنی پیٹرول، ملنے کی تصدیق ہوئی، تاہم دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے کے رہائشیوں کو عارضی طور پر گھروں سے نکلنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔
Seven men arrested near a US bomber base. Not one has been charged.
– Police found petrol in three vans heading toward RAF Fairford. They found no bombs.
– Now two of the men are back in custody, this time on suspicion of assisting Iranian intelligence.
– Iran denies it. Police still have not said what the men allegedly did.Facts. Not Spin.
Read the full story: https://t.co/nc30m9XzUd
— Unbiased Headlines (@UnbiasedHdlns) October 20, 2026
برطانوی انسدادِ دہشتگردی پولیس کے سربراہ لارنس ٹیلر نے کہا ہے کہ تحقیقات انتہائی پیچیدہ ہیں اور حکام کے نزدیک ایرانی ریاست کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔ ان کے مطابق تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ممکنہ ایرانی مداخلت کس نوعیت کی تھی اور اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔
مزید پڑھیں:سفید دم والے نایاب عقاب کہاں گئے؟ برطانوی پولیس گمشدہ پرندوں کا سراغ لگانے میں مصروف
رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں اب تک 7 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، تاہم کسی پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ ایران نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، جبکہ برطانوی حکام کی تحقیقات جاری ہیں۔










