گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنرز کو ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960ء کی دفعہ 3(1) کے تحت اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ضلع کی سطح پر بروقت اور مؤثر روک تھام کے اقدامات کو یقینی بنانا، انتظامی تاخیر کو کم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
In view of the prevailing law and order situation, I have delegated powers under Section 3(1) of the West Pakistan Maintenance of Public Order (MPO) Ordinance, 1960, to Deputy Commissioners across Khyber Pakhtunkhwa to ensure timely and effective preventive action at the district level, reduce administrative delays and strengthen coordination with law enforcement agencies. However, these powers must be exercised strictly in accordance with the Constitution and the law, I expect all DCs to act responsibly and in close coordination with law enforcement agencies. The powers must never be misused. The peace, security and protection of our people remain my foremost priority
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 21, 2026
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ ان اختیارات کا استعمال آئین اور قانون کے عین مطابق ہونا چاہیے اور تمام ڈپٹی کمشنرز سے ذمہ دارانہ رویے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے اب ہماری پالیسیز اسلام آباد سے آئیں گی اور ہم من و عن عمل کریں گے، فیصل کریم کنڈی
انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی او کے اختیارات کا غلط استعمال کسی صورت نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ عوام کا امن، سلامتی اور تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔
دفعہ 3(1) کیا ہے؟
اصل قانون کے مطابق یہ اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوتا ہے، لیکن آرڈیننس کی دفعہ 26 کے تحت حکومت یہ اختیارات ڈپٹی کمشنرز (DCs) یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو تفویض کر سکتی ہے، جو مقامی سطح پر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960ء کی دفعہ 3(1) حکومت کو امنِ عامہ برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کے لیے کسی شخص کو گرفتار کرنے اور حراست میں رکھنے کا اختیار دیتی ہے، اگر حکومت اس نتیجے پر پہنچے کہ متعلقہ شخص کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔
گرفتاری اور نظر بندی: حکومت تحریری حکم کے ذریعے کسی شخص کو گرفتار کرکے حراست میں رکھنے کا حکم دے سکتی ہے۔
بنیادی وجہ: متعلقہ شخص کی ایسی سرگرمیوں کو روکنا جنہیں عوامی تحفظ یا امنِ عامہ کے لیے نقصان دہ سمجھا جائے۔
نظر بندی کی مدت: قانون کی متعلقہ شقوں کے تحت نظر بندی کی مدت مقرر کی جاتی ہے اور اسے ایک وقت میں چھ ماہ سے زیادہ نہ ہونے والی مدت کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ قانونی تقاضے پورے ہوں۔
یہ سزا یافتہ ہونے کی شرط نہیں: یہ احتیاطی حراست کا قانون ہے؛ اس کے تحت کارروائی کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے کسی فوجداری مقدمے میں سزا ہو چکی ہو۔ تاہم، قانونی اختیار اور دیگر شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔









