خیبر پختونخوا میں ڈپٹی کمشنرز کو کون سا نیا خصوصی اختیار دیدیا گیا؟

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنرز کو ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960ء کی دفعہ 3(1) کے تحت اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ضلع کی سطح پر بروقت اور مؤثر روک تھام کے اقدامات کو یقینی بنانا، انتظامی تاخیر کو کم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ ان اختیارات کا استعمال آئین اور قانون کے عین مطابق ہونا چاہیے اور تمام ڈپٹی کمشنرز سے ذمہ دارانہ رویے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے اب ہماری پالیسیز اسلام آباد سے آئیں گی اور ہم من و عن عمل کریں گے، فیصل کریم کنڈی

انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی او کے اختیارات کا غلط استعمال کسی صورت نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ عوام کا امن، سلامتی اور تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

دفعہ 3(1) کیا ہے؟

اصل قانون کے مطابق یہ اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوتا ہے، لیکن آرڈیننس کی دفعہ 26 کے تحت حکومت یہ اختیارات ڈپٹی کمشنرز (DCs) یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو تفویض کر سکتی ہے، جو مقامی سطح پر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960ء کی دفعہ 3(1) حکومت کو امنِ عامہ برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کے لیے کسی شخص کو گرفتار کرنے اور حراست میں رکھنے کا اختیار دیتی ہے، اگر حکومت اس نتیجے پر پہنچے کہ متعلقہ شخص کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

  گرفتاری اور نظر بندی: حکومت تحریری حکم کے ذریعے کسی شخص کو گرفتار کرکے حراست میں رکھنے کا حکم دے سکتی ہے۔

  بنیادی وجہ: متعلقہ شخص کی ایسی سرگرمیوں کو روکنا جنہیں عوامی تحفظ یا امنِ عامہ کے لیے نقصان دہ سمجھا جائے۔

یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس: امن کا قیام اولین ترجیح، دہشتگردوں کے خلاف مربوط کارروائی کی جائےگی، فیصل کریم کنڈی

  نظر بندی کی مدت: قانون کی متعلقہ شقوں کے تحت نظر بندی کی مدت مقرر کی جاتی ہے اور اسے ایک وقت میں چھ ماہ سے زیادہ نہ ہونے والی مدت کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ قانونی تقاضے پورے ہوں۔

  یہ سزا یافتہ ہونے کی شرط نہیں: یہ احتیاطی حراست کا قانون ہے؛ اس کے تحت کارروائی کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے کسی فوجداری مقدمے میں سزا ہو چکی ہو۔ تاہم، قانونی اختیار اور دیگر شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں پولیس پر حملہ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ڈکیت زخمی

مصنوعی ذہانت کے استعمال کا معاملہ، کینیڈین پبلشر نے معروف ناول نگار سے تعلق ختم کرلیا

سائبر سیکیورٹی کے سنگین خطرات، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند

قطر سے ایل این جی کا دوسرا جہاز پاکستان پہنچ گیا، گیس سپلائی میں کچھ بہتری کی امید

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟