پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار جٹ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبے کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ احتجاج کی کال دینے سے پہلے نہ بیرسٹر گوہر سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی سے کوئی منظوری لی گئی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی احتجاج کی قیادت نہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
کسی پارلیمانی پارٹی سے ہماری کوئی مشاورت یا انڈورسمنٹ نہیں ہوئی تھی۔پی ٹی آئی کے احتجاج کی ناکامی کے ذمہ دارخیبرپختونخوا کے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں۔ڈاکٹر نثار جٹ https://t.co/VrpnHLjr52
— WE News (@WENewsPk) October 22, 2026
خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے بیرسٹر گوہر کو لکھے گئے خط اور 15 روز میں مؤقف واضح کرنے یا عہدوں سے الگ ہونے کے مطالبے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر نثار جٹ نے کہاکہ احتجاج کی کال کس نے دی تھی؟ کیا یہ کال بیرسٹر گوہر سے پوچھ کر دی گئی تھی؟ کیا اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کی گئی تھی؟
ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن ہی واضح کردیا گیا تھا کہ جو فیصلہ کرے گا، اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔
سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمانی پارٹی سے رابطہ نہ کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ احتجاج کے فیصلے کے لیے ہماری پارلیمانی پارٹی سے کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ہمیں موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط بنانا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر
دوسری جانب، پی ٹی آئی رہنما سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پارٹی کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ انفرادی فیصلوں سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ وہ اب اس فیصلے کی حمایت کرنے جا رہے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کیا جائے اور اسی کے ذریعے موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں تجربہ کار، باشعور اور سمجھ بوجھ رکھنے والے سیاستدان موجود ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ فیصلے کیے جائیں اور ان فیصلوں کی بنیاد پر تحریک انصاف کو آگے بڑھایا جائے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں اب انفرادی فیصلوں کے بجائے پارلیمانی پارٹی کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ انفرادی فیصلوں سے نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل میں خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ اجتماعی قیادت سامنے آسکے۔
اپنی سینیٹرشپ خطرے میں ہونے سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انہیں نہ سینیٹرشپ کی فکر ہے اور نہ ہی وہ اسے کسی خطرے میں سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ عمران خان کی رہائی پر ہے اور وہ عہدوں کے بارے میں نہ فکر کرتے ہیں اور نہ ہی سوچتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اب تک اپنی سینیٹرشپ کو کسی خطرے کا علم نہیں ہوا۔ اگر ایسا کوئی معاملہ ہے بھی تو وہ اسے خطرہ نہیں سمجھتے۔ اللہ تعالیٰ جسے جو کچھ دینا چاہتا ہے، وہ اس کی مرضی سے ملتا ہے، نہ کوئی کسی سے کچھ لے سکتا ہے اور نہ کسی کو دے سکتا ہے۔
پارلیمانی پارٹی میں اپوزیشن لیڈرز کی تبدیلی کے مطالبے اور اس حوالے سے اکثریتی رائے پر عملدرآمد سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی ایسی رائے ضرور موجود ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
’کسی کو ہٹانے یا توڑ پھوڑ کے بجائے تعمیر پر یقین رکھتا ہوں‘
تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی کو ہٹانے یا توڑ پھوڑ کے بجائے تعمیر پر یقین رکھتے ہیں۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ مستقبل پر ہے اور وہ تحریک انصاف کی ازسرنو تعمیر اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں تاکہ آگے چل کر اپنے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو عہدے سے ہٹانا یا نہ ہٹانا بعد کی بات ہے، وہ نہیں سمجھتے کہ اس وقت کسی کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔









