خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار سہیل آفریدی اور وہاں کے ارکان اسمبلی ہیں، پی ٹی آئی رہنما نثار جٹ

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار جٹ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبے کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ احتجاج کی کال دینے سے پہلے نہ بیرسٹر گوہر سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی سے کوئی منظوری لی گئی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی احتجاج کی قیادت نہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے بیرسٹر گوہر کو لکھے گئے خط اور 15 روز میں مؤقف واضح کرنے یا عہدوں سے الگ ہونے کے مطالبے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر نثار جٹ نے کہاکہ احتجاج کی کال کس نے دی تھی؟ کیا یہ کال بیرسٹر گوہر سے پوچھ کر دی گئی تھی؟ کیا اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کی گئی تھی؟

ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن ہی واضح کردیا گیا تھا کہ جو فیصلہ کرے گا، اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔

سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمانی پارٹی سے رابطہ نہ کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ احتجاج کے فیصلے کے لیے ہماری پارلیمانی پارٹی سے کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ہمیں موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط بنانا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر

دوسری جانب، پی ٹی آئی رہنما سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پارٹی کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ انفرادی فیصلوں سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ وہ اب اس فیصلے کی حمایت کرنے جا رہے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کیا جائے اور اسی کے ذریعے موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں تجربہ کار، باشعور اور سمجھ بوجھ رکھنے والے سیاستدان موجود ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ فیصلے کیے جائیں اور ان فیصلوں کی بنیاد پر تحریک انصاف کو آگے بڑھایا جائے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں اب انفرادی فیصلوں کے بجائے پارلیمانی پارٹی کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ انفرادی فیصلوں سے نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل میں خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ اجتماعی قیادت سامنے آسکے۔

اپنی سینیٹرشپ خطرے میں ہونے سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انہیں نہ سینیٹرشپ کی فکر ہے اور نہ ہی وہ اسے کسی خطرے میں سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ عمران خان کی رہائی پر ہے اور وہ عہدوں کے بارے میں نہ فکر کرتے ہیں اور نہ ہی سوچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اب تک اپنی سینیٹرشپ کو کسی خطرے کا علم نہیں ہوا۔ اگر ایسا کوئی معاملہ ہے بھی تو وہ اسے خطرہ نہیں سمجھتے۔ اللہ تعالیٰ جسے جو کچھ دینا چاہتا ہے، وہ اس کی مرضی سے ملتا ہے، نہ کوئی کسی سے کچھ لے سکتا ہے اور نہ کسی کو دے سکتا ہے۔

پارلیمانی پارٹی میں اپوزیشن لیڈرز کی تبدیلی کے مطالبے اور اس حوالے سے اکثریتی رائے پر عملدرآمد سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی ایسی رائے ضرور موجود ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔

’کسی کو ہٹانے یا توڑ پھوڑ کے بجائے تعمیر پر یقین رکھتا ہوں‘

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی کو ہٹانے یا توڑ پھوڑ کے بجائے تعمیر پر یقین رکھتے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ مستقبل پر ہے اور وہ تحریک انصاف کی ازسرنو تعمیر اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں تاکہ آگے چل کر اپنے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو عہدے سے ہٹانا یا نہ ہٹانا بعد کی بات ہے، وہ نہیں سمجھتے کہ اس وقت کسی کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

، ’کٹھ پتلیوں نہیں ڈوریں ہلانے والوں کو بھی دیکھ لوں‘، اپنے خلاف تحقیقات پر ایلون مسک کی ڈیموکریٹس کو دھمکی

پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر سے صحتیاب ہوگئے

پی ٹی سی ایل گروپ کی مالیاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری، آمدن میں 62 فیصد اور آپریٹنگ منافع میں 181 فیصد اضافہ

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے روپے سستا ہوگیا؟

ویڈیو

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟