گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس، ملزم پر فرد جرم عائد

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پاکستان ایئر فورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم سعد عباسی پر فرد جرم عائد کردی، جبکہ استغاثہ کے گواہوں کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کی، جس میں ملزم سعد عباسی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے ملزم کو الزامات پڑھ کر سنائے، تاہم اس نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں خاتون کو بچاتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کارروائی 2 نومبر تک ملتوی کردی۔ پولیس نے قتل کے واقعے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر رکھا ہے۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق 5 جولائی کو اسلام آباد میں ایک خاتون کو زبردستی لے جانے کی کوشش روکنے کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم سعد عباسی نے مداخلت کرنے پر ان پر فائرنگ کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی، جہاں بھی ہوں گے سخت ضرب لگائیں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون لانچ ہوتے ہی مقبول، خریداروں کو ڈیلیوری کے لیےکتنا انتظار کرنا پڑے گا؟

پنجاب میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی فروخت بند، اب صرف 10 کلو کا بیگ مارکیٹ میں آئے گا: مریم نواز

جاپان کا مصنوعی ذہانت سے سائبر حملوں کی مشق کا فیصلہ، انٹرنیٹ پر ہنگامی صورتحال

مانگا منڈی میں ڈیلیوری رائیڈر کا قتل، میاں بیوی کو عمر قید کی سزا

ویڈیو

مکہ دفاعی معاہدہ ہر اعتبار سے پاکستان کے لیے فائدہ مند ہیں، پاکستانی خواتین کی رائے

مکہ دفاعی معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کی بنیاد بنے گا، تمام اسلامی ممالک اس میں شامل ہوں، زاہد محمود قاسمی

13 سالہ پی ٹی آئی حکومت: اپر دیر میں بڑے منصوبوں کے محض اعلانات لیکن عملی نتیجہ صفر

کالم / تجزیہ

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ