وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ملک بھر کے طلبہ میں 5 لاکھ کروم بکس تقسیم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد طلبہ کو آن لائن تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اسکیم میں سرکاری اسکولوں کے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ درخواست دینے کے اہل ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں نویں جماعت کے ذہین طلبہ پر غور کیا جائے گا، جبکہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نویں اور دسویں جماعت کے نمایاں طلبہ بھی زیر غور آئیں گے۔ فی الحال نجی اسکولوں کے طلبہ اس اسکیم کے اہل نہیں ہیں۔
درخواست دینے کا طریقہ
طلبہ اسکیم کے سرکاری پورٹل pmychromebooks.ibcc.edu.pk پر جا کر اپنی معلومات درج کر سکتے ہیں۔
درخواست دینے کے لیے متعلقہ تعلیمی بورڈ منتخب کریں اور شناختی کارڈ یا ب فارم نمبر، امتحانی رول نمبر یا رجسٹریشن نمبر اور تاریخ پیدائش درج کریں۔ اس کے بعد ’فائنڈ مائی ریکارڈ‘ کے بٹن پر کلک کریں۔
اگر ریکارڈ سامنے آ جائے تو نام، اسکول اور امتحانی معلومات کی درستگی چیک کریں۔ ریکارڈ نہ ملنے کی صورت میں رول نمبر یا رجسٹریشن نمبر سے دوبارہ تلاش کریں۔ اس کے باوجود ریکارڈ نہ ملے تو متعلقہ تعلیمی بورڈ سے رابطہ کریں۔
کون سی دستاویزات درکار ہوں گی؟
درخواست مکمل کرنے کے لیے یہ دستاویزات درکار ہیں:
حالیہ رنگین تصویر
نویں یا دسویں جماعت کی متعلقہ مارک شیٹ
شناختی کارڈ یا ب فارم کی تصدیق شدہ نقل
والد یا سرپرست کے شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ نقل
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں بڑا اسکینڈل، 1011 لیپ ٹاپ غائب ہوگئے
پورٹل کی ہدایات کے مطابق تصویر جے پی جی یا پی این جی فارمیٹ میں، جبکہ دیگر دستاویزات جے پی جی، پی این جی یا پی ڈی ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ ہر فائل کا حجم 300 کلو بائٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
درخواست جمع کرانے سے پہلے احتیاط
تمام معلومات اور دستاویزات اچھی طرح جانچنے کے بعد درخواست جمع کرائیں، کیونکہ جمع کرانے کے بعد معلومات میں براہ راست ترمیم کی اجازت نہیں ہوگی۔ کامیاب درخواست پر ایک حوالہ نمبر اور درخواست کی رسید ملے گی، جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

ہر طالب علم صرف ایک درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکیم کے پورٹل پر تمام تعلیمی بورڈز کے لیے درخواست جمع کرانے کی کوئی ایک ملک گیر آخری تاریخ درج نہیں؛ اس لیے طلبہ اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈ کے اعلانات بھی دیکھتے رہیں۔











