روٹری انٹرنیشنل نے پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے اپنی کئی دہائیوں پر محیط معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ روٹری کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ممالک ہیں جہاں اب بھی وائلڈ پولیو وائرس موجود ہے۔
عالمی یومِ انسدادِ پولیو ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ روٹری انٹرنیشنل کے مطابق 1988 میں عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی کوششیں شروع ہونے کے بعد اس بیماری کے کیسز میں 99.9 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے، جبکہ دنیا بھر میں 2 کروڑ سے زائد افراد کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے میں مدد ملی ہے۔

روٹری انٹرنیشنل کے صدر اولے اینکا حکیم بابالولا نے کہا کہ ادارہ اب تک پولیو کے خاتمے کے لیے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی معاونت فراہم کر چکا ہے۔ پاکستان میں اس کی سرمایہ کاری اور رضاکاروں کی خدمات سے ساڑھے 4 کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو کے باعث معذوری سے بچانے میں مدد ملی ہے۔
روٹری کی پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی کے چیئرمین عزیز میمن کے مطابق پاکستان میں انسدادِ پولیو کی کوششوں میں پیشرفت ہوئی ہے اور رواں سال اب تک چند کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد بڑھانے کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹس، کمیونٹی وسائل مراکز، پولیو ورکرز کے لیے سہولت مراکز اور سفری راستوں پر ویکسینیشن کے مراکز قائم کرنے میں بھی معاونت کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا بلوچستان پولیو سے پاک ہوگیا؟
روٹری نے زور دیا ہے کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومتوں، عطیہ دہندگان اور شراکت داروں کو مالی اور سیاسی معاونت جاری رکھنا ہوگی۔ ویکسین سے انکار بھی ہر بچے تک تحفظ پہنچانے کی کوششوں میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔











