پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو دہشتگرد حملوں کے جواب میں اپنے دفاع، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق گمراہ کن معلومات اور منفی بیانیے افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان افغانستان کے لیے اپنی خدمات بیان کرنے میں کمزور ہے، فخر کاکاخیل
بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف 2026 کے دوران ایسے حملوں کے نتیجے میں 3 ہزار 500 سے زائد جانی نقصانات ہوئے ہیں۔
دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دے رہی ہے۔
ان میں تحریک طالبان پاکستان، جسے بیان میں ’فتنہ الخوارج‘، اور بلوچستان لبریشن آرمی، جسے ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیا گیا، سمیت ان کے اتحادی گروہ شامل ہیں۔
🔊 PR No. 3️⃣0️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Rejects Baseless Allegations by the Afghan Taliban Regime, Reaffirms Right to Self-Defence Against Terrorism
🔗⬇️ pic.twitter.com/O8e7sNkzQ9
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 26, 2026
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ تنظیمیں خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، پاکستان کے ہزاروں شہری دہشتگرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، جن کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، سرپرستی اور کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئیں۔
دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ان سرگرمیوں کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور معاونت حاصل رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل دہشت گرد حملوں کا نشانہ بننے کے بعد خاموش نہیں رہ سکتی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے حملوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ ، وزارت اطلاعات نے ویڈیو جاری کردی
پاکستان کی جانب سے ایسے حملوں کے جواب میں کیے گئے اقدامات حقِ دفاع کے تحت، ضرورت کے اصول اور آخری چارے کے طور پر کیے گئے، جن کا ہدف صرف افغانستان میں دہشتگرد اور ان کے لاجسٹک معاونتی مراکز تھے۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا ردعمل خطرے کی نوعیت کے تناسب سے تھا اور اس دوران اہداف میں امتیاز اور احتیاط کے اصولوں کی سختی سے پابندی کی گئی۔
بیان کے مطابق پاکستان کو درپیش دہشتگرد حملوں کی شدت اور تواتر کے تناظر میں کارروائیوں کا دائرہ اور حجم ضبط و تحمل کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان نے اس کے برعکس کسی بھی تاثر کو مسترد کر دیا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان کو تشویش ہے، اسحاق ڈار
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری میں ناکامی پر افغان طالبان حکومت کا محاسبہ کرے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔











