پنجاب آرمز آرڈیننس 1965 کو مغربی پاکستان کے گورنر نے 8 جون 1965 کو نافذ کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد اسلحے، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی فروخت، نقل و حمل، اپنے پاس رکھنے اور قبضے سے متعلق قوانین کو یکجا کرنا اور ان میں ضروری ترامیم کرنا تھا۔ بعد ازاں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد پنجاب آرمز (ترمیمی) ایکٹ 2014 کے ذریعے اس قانون کو صوبہ پنجاب کے لیے باضابطہ طور پر اختیار کیا گیا۔
اس آرڈیننس میں مختلف ادوار میں ترامیم کی جاتی رہی ہیں، جن میں 2014، 2015 اور بعد کے برسوں میں سزاؤں کو مزید سخت بنانے، قید کی کم از کم مدت مقرر کرنے اور جرمانوں میں اضافے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد غیر قانونی اسلحے کے استعمال کی روک تھام اور متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کو مؤثر بنانا تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور پولیس کی ہوائی فائرنگ اور غیرقانونی اسلحہ کے خلاف سخت کارروائیاں، سینکڑوں گرفتار
پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے، تیار کرنے اور فروخت کرنے کی روک تھام کے لیے قوانین مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں 61 سال پرانے پنجاب آرمز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کرکے پنجاب آرمز ترمیمی ایکٹ 2026 متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیمی قانون میں نئی دفعہ 14-اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت غیر قانونی اسلحے سے متعلق مقدمات کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا جائے گا، جبکہ ان مقدمات میں فریقین کے درمیان راضی نامے کی گنجائش بھی ختم کردی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت قتل، ڈکیتی یا راہزنی کے ساتھ غیر قانونی اسلحے سے متعلق مقدمات کی سماعت بھی ایک ہی عدالت میں کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کم ہو اور ملزمان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ مختلف عدالتوں میں زیر التوا غیر قانونی اسلحے کے مقدمات کو ایک مرکزی عدالت میں منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ان مقدمات کی یکساں اور تیز رفتار سماعت یقینی بنائی جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ’محفوظ پنجاب ویژن‘ کے تحت پنجاب پولیس کی جانب سے غیر قانونی اسلحے کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران رواں سال ہزاروں ہتھیار اور لاکھوں گولیاں برآمد کی جا چکی ہیں۔
تاہم، عدالتوں میں آرمز آرڈیننس کے تحت زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد اور بعض مقدمات میں راضی نامے کی گنجائش کے باعث مؤثر سزاؤں کے نفاذ میں رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھرپور ایکشن
مجوزہ قانونی ترامیم کا مقصد ان خامیوں کو دور کرنا اور اسلحے سے متعلق قوانین کو موجودہ دور کے چیلنجز اور تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔







