خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ: پالیسی بورڈ سے افسران کے تبادلوں تک اختیارات کی نئی تقسیم کیا ہے؟

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا پولیس کو کس طرح نکیل ڈالی جائے، طویل مشاورت کے بعد صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں ترامیم کر لیں، جس کے تحت پولیس سے متعلق پالیسی سازی کے اختیارات آئی جی کے بجائے وزیراعلیٰ کے پاس منتقل ہوگئے، جبکہ افسران کے تبادلوں کے لیے بھی آئی جی کو وزیراعلیٰ سے منظوری لینے کا پابند بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم آرٹیکل 143 سے متصادم ہیں، محکمے کی کارکردگی متاثر ہوگی، ماہر قانون

پولیس ایکٹ میں ترامیم کے عمل میں شامل ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس ایکٹ کے سیکشن 10 میں ترمیم کی گئی ہے، جو پولیس پالیسی بورڈ سے متعلق ہے۔ موجودہ قانون کے تحت پالیسی بورڈ کا اجلاس انسپکٹر جنرل آف پولیس کی سربراہی میں ہوتا ہے، جس میں کم از کم 8 ڈپٹی انسپکٹر جنرلز بھی شامل ہوتے ہیں، جبکہ پبلک سیفٹی کمیشن کے 2 ارکان بطور آبزرور اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں۔

تاہم نئی ترمیم کے تحت پالیسی بورڈ کا اجلاس وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ہوگا، جس میں کابینہ کے بعض ارکان کے علاوہ متعلقہ سیکرٹریز بھی بطور ممبران شامل ہوں گے۔

انوسٹی گیشن ونگ، آپریشنل پولیس سے الگ

ایکٹ کے سیکشن 25 میں بھی ترمیم کی گئی ہے، جو انوسٹی گیشن سے متعلق ہے۔ موجودہ نظام کے تحت اضلاع میں انوسٹی گیشن افسران ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) اور ریجنل پولیس افسر (آر پی او) کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ نئی ترمیم کے تحت انوسٹی گیشن ونگ کو آپریشنل پولیس سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔ انوسٹی گیشن ونگ نہ ڈی پی او اور نہ ہی آر پی او کے ماتحت ہوگا، جبکہ ونگ کے بعض یونٹس کو اسپیشلائزڈ ونگز کا درجہ دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ: خودمختاری کے دعوؤں سے وزیراعلیٰ کی تابعداری تک کا سفر

ترمیم کے تحت ان اسپیشلائزڈ ونگز میں تعینات اہلکاروں کو آپریشنل پولیس میں منتقل نہیں کیا جا سکے گا بلکہ وہ انوسٹی گیشن ونگ ہی میں تعینات رہیں گے۔ انوسٹی گیشن ونگ کے اہلکاروں کو خصوصی ڈیوٹیوں سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ انوسٹی گیشن ونگ کا سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے عہدے کا افسر ہوگا، جس طرح کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا اپنا سربراہ ہوتا ہے۔

ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل پر محکمہ داخلہ کا اعتراض

ایکٹ کے سیکشن 73 کا تعلق ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) سے ہے۔ ذریعے کے مطابق محکمہ داخلہ نے اس شق پر اعتراض اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں پہلے ہی الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن ایکٹ 2020 موجود ہے، اس لیے پولیس ایکٹ میں ڈی آر سی سے متعلق الگ شق کی ضرورت نہیں۔

تاہم پولیس حکام نے سیکشن 73 کو ختم کرنے سے اتفاق نہیں کیا، جس کے بعد کمیٹی میں یہ طے پایا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔

افسران کے تبادلوں کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟

ذریعے کے مطابق ترامیم میں پولیس افسران کے تبادلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کے تبادلے رولز آف بزنس کے تحت ہوں گے۔

اس طریقہ کار کے تحت گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کے تبادلوں کی منظوری وزیراعلیٰ دیں گے، جیسا کہ سول انتظامیہ میں اعلیٰ گریڈ کے افسران کے تبادلوں کے لیے طریقہ کار رائج ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا اعلامیہ جاری کرنے سے قبل تبادلوں کی سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کریں گے، جس کی منظوری کے بعد ہی آئی جی پولیس تبادلے کا اعلامیہ جاری کریں گے۔

ترامیم کا مسودہ خفیہ رکھا گیا

ذریعے کے مطابق پولیس ایکٹ میں ترامیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں پولیس افسران بھی شامل تھے۔ پولیس افسران حکومت کی جانب سے تجویز کردہ بیشتر ترامیم پر متفق تھے، تاہم ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کے معاملے پر اختلاف موجود تھا۔

ذریعے نے بتایا کہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کو انتہائی محدود سطح پر رکھا گیا۔ نئی ترامیم صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے ذاتی لیپ ٹاپ پر کی گئیں، جبکہ مسودے کی صرف چند کاپیاں تیار کی گئیں اور کابینہ کے تمام ارکان کو بھی اس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026: پولیس اصلاحات یا سیاسی کنٹرول؟ مجوزہ قانون کی اہم شقوں پر سوالات

قانون دان شبیر گیگیانی کے مطابق پولیس ایکٹ میں ترامیم کا بنیادی مقصد پولیس کو حکومتی اثر و رسوخ میں لانا ہے۔ ان کے بقول، تبادلوں کا اختیار وزیراعلیٰ کو منتقل ہونے سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنما، حتیٰ کہ کارکنان بھی، اپنی بات نہ ماننے والے کسی بھی پولیس افسر کے تبادلے کے لیے سفارش کر سکیں گے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کہتے ہیں کہ پولیس ایکٹ میں ترامیم سے پولیس افسران کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے احتساب اور جواب دہی کا شفاف طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔ ایکٹ کا بنیادی مقصد پولیس کے تفتیشی نظام کو بہتر کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp