تشدد کا شکار بھارتی ریاست منی پور میں بھارتی فورسز کے بڑھتے نفسیاتی دباؤ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 27 سالہ آسام رائفلز کے ایک اہلکار نے مبینہ طور پر گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔
مبصرین کے مطابق منی پور اور مقبوضہ جموں و کشمیر جیسے تنازع زدہ علاقوں میں مسلسل تعیّناتی اور سخت سروس کنڈیشنز کی وجہ سے بھارتی فورسز کے اہلکاروں میں خودکشی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں 2 پیرا ملٹری اہلکاروں کی خودکشی، سیکیورٹی فورسز میں ذہنی و مالی دباؤ پھر زیرِ بحث
پولیس کے مطابق متوفی اہلکار کی شناخت 27 سالہ چانم نماندا سنگھ کے نام سے ہوئی ہے، جس کی لاش کاکچنگ تھانے کی حدود میں واقع 28 سیکٹر آسام رائفلز کے احاطے سے لٹکی ہوئی ملی۔ پولیس نے لاش تحویل میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے اور موت کی وجوہات اور حالات کا پتہ لگانے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر کشیدہ علاقوں میں تعیّناتی کے دوران بھارتی مسلح افواج اور پیراملٹری فورسز کے اہلکاروں میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے سنگین مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کی بڑی وجوہات میں پرتشدد احکامات پر عمل درآمد کا دباؤ، اہل خانہ سے طویل جدائی، کام کی جگہ پر شدید ذہنی تناؤ، کٹھن حالاتِ کار، ذاتی و خاندانی مسائل، مالی مشکلات اور چھٹیوں کی عدم فراہمی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں، سینئر افسران کی جانب سے بدسلوکی، بے جا دباؤ اور مناسب نفسیاتی معاونت و دیکھ بھال کے فقدان نے فورسز میں ذہنی صحت کے مسائل کو مزید شدید کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی فوج میں خودکشیوں کا تشویشناک اضافہ، ہر تیسرے دن ایک فوجی زندگی کا خاتمہ کر رہا ہے
دفاعی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ منی پور اور مقبوضہ جموں و کشمیر جیسے بے امن اور کشیدہ علاقوں میں مناسب فلاحی تدابیر کے بغیر طویل عرصے تک تعیّناتی بھارتی فوجیوں میں بڑھتی ہوئی بددلی، فرسٹریشن اور خودکشی کے رحجان کی بنیادی وجہ ہے۔










