مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے 7 شریک بانیوں نے کمپنی میں اپنے ذاتی حصص کا 80 فیصد فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 80 ارب ڈالر بنتی ہے، تاہم یہ وعدہ قانونی طور پر پابند نہیں اور بانی اسے واپس بھی لے سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اینتھروپک نے اپنی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) سے متعلق دستاویزات میں اس وعدے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ دستاویزات پیر 26 اکتوبر کو منظر عام پر لائی گئیں، جن میں کہا گیا ہے کہ تمام 7 بانیوں نے کمپنی میں اپنے ذاتی حصص کا 80 فیصد فلاحی مقاصد کے لیے مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینتھروپک نے اوپن اے آئی اور میٹا کے مقابلے کے لیے اے آئی ایجنٹ ’کلاڈ ڈوئیٹ‘ متعارف کرا دیا
کمپنی کے بانیوں میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی، ڈینیلا امودی، ٹام براؤن، جیک کلارک، جیرڈ کپلن، سیم میک کینڈلش اور کرس اولا شامل ہیں۔ ان تمام بانیوں کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 1 ارب 69 کروڑ حصص ہیں۔
مالیاتی جریدے فارچون کے تجزیے کے مطابق، نجی سرمایہ کاری کے تازہ ترین دور میں حصص کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے بانیوں کے مجموعی حصص کی مالیت تقریباً 99.3 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس مالیت کا 80 فیصد تقریباً 79.4 ارب ڈالر ہے، جو اوسطاً ہر بانی کے حصے میں تقریباً 11 ارب ڈالر بنتا ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے جنوری میں ایک مضمون میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دولت کمانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی کردار ادا کریں۔
دوسری جانب اینتھروپک کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں اس کی آمدنی 16.3 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 1.2 ارب ڈالر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز اسمارٹ ڈیوائسز کے ذریعے اپنی نقلیں خود تیار کرکے پھیلا سکتے ہیں، اینتھروپک کا انتباہ
رپورٹ کے مطابق اینتھروپک اپنی ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے 100 ارب ڈالر تک حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ کمپنی نیسڈیک اسٹاک ایکسچینج میں ‘اے این ٹی’ کے نام سے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ اس کی ممکنہ مالیت 1.5 ٹریلین سے 2 ٹریلین ڈالر تک لگائی جا رہی ہے۔ کمپنی کے حصص کی فروخت کا آغاز نومبر کے اواخر میں متوقع ہے۔
تاہم، آئی پی او دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ بانیوں کی جانب سے عطیات دینے کے وعدے رضاکارانہ ہیں اور انہیں واپس لیا جا سکتا ہے۔ عطیات دینے کے وقت اور ان کے وصول کنندگان کے بارے میں بھی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ بانی یہ عطیات فلاحی اداروں، نجی فاؤنڈیشنز، عطیہ دہندگان کے زیر انتظام فنڈز یا دیگر فلاحی ذرائع کے ذریعے دے سکتے ہیں۔











