یورپی ڈیٹا تحفظ کی نمایاں تنظیم ’یورپی سینٹر فار ڈیجیٹل رائٹس‘ المعروف ’نوائب‘ نے اے آئی پلیٹ فارم آؤٹ لائر کے ذریعے ورکرز کی ذاتی معلومات جمع کرنے اور بائیومیٹرک تصدیق کے مبینہ جارحانہ طریقہ کار پر سان فرانسسکو میں قائم اسکیل اے آئی کے خلاف یورپ کے 4 ممالک میں 5 قانونی شکایات دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ شکایات آسٹریا میں 2، فرانس، نیدرلینڈز اور اٹلی میں ایک، ایک دائر کی جا رہی ہیں، جن میں کارکنوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور کام کے دوران ان کی نگرانی کے طریقوں پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
آؤٹ لائر پر ذاتی معلومات جمع کرنے کا الزام
نوائب نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ آؤٹ لائر بڑی مقدار میں ذاتی معلومات جمع کرتا ہے اور ورکرز کو معاوضہ حاصل کرنے کے لیے مداخلت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیق کے عمل سے گزرنے پر مجبور کرتا ہے۔
تنظیم کے مطابق یورپ میں کام کی جگہ پر اس نوعیت کی وسیع نگرانی کارکنوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
آؤٹ لائر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو فری لانسرز اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو بھرتی کرتا ہے، تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت، ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور ان کے جوابات بہتر بنانے میں معاونت فراہم کریں۔
9 لاکھ سے زیادہ فری لانسرز پلیٹ فارم سے وابستہ
نوائب کے مطابق آؤٹ لائر اپنے پلیٹ فارم پر 9 لاکھ سے زیادہ فری لانسرز کی خدمات حاصل کرتا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے جوابات کا جائزہ لینے اور ان کی اصلاح کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی بڑی ناکامی، آئی فون 18 کی لانچ سے قبل ایپل کا حساس ڈیٹا چوری
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے صارفین میں میٹا، اوپن اے آئی، گوگل اور امریکی حکومت بھی شامل ہیں۔
اے آئی ماڈلز کی تربیت اور جانچ میں انسانی کارکنوں کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی مدد سے ماڈلز کے جوابات کی درستی، معیار اور افادیت بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تاہم نوائب کی شکایات نے اس عمل میں شامل ورکرز کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل رازداری کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ٹک ٹاک، لنکڈ اِن اور فیس بک کے ٹریکرز سے متعلق دعویٰ
نوائب نے الزام لگایا ہے کہ آؤٹ لائر پلیٹ فارم استعمال کرنے والے کارکنوں کے آلات پر ٹک ٹاک، لنکڈ اِن اور فیس بک جیسی کمپنیوں کے ٹریکرز موجود ہوتے ہیں، جنہیں کارکنوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
تنظیم کے مطابق اس ڈیٹا میں انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریسز، رابطے کی تفصیلات اور ایسی دیگر معلومات شامل ہو سکتی ہیں جنہیں ہدفی تشہیر اور افراد کی پروفائلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نوائب کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے ڈیٹا کی کولیکشن اور تیسرے فریق کی جانب سے اس تک رسائی کارکنوں کی پرائیویسی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کرتی ہے۔
چہرے کی ویڈیو اور شناختی دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی شرط
شکایات میں ایک اہم اعتراض بائیومیٹرک تصدیق کے طریقہ کار سے متعلق بھی ہے۔ نوائب کے مطابق اسکیل اے آئی کارکنوں سے بار بار شناخت کی تصدیق کرواتا ہے، جس کے لیے ’پرسانا‘ نامی کمپنی کی خدمات استعمال کی جاتی ہیں۔
تنظیم کا الزام ہے کہ اس عمل میں کارکنوں کو اپنے چہرے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے اور اپنی شناختی دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
نوائب کے مطابق اس طرح کے تقاضے کارکنوں کی حساس ذاتی معلومات کے تحفظ اور ان کے ڈیٹا کے استعمال کے طریقہ کار سے متعلق اہم قانونی سوالات پیدا کرتے ہیں۔
پلیٹ فارم ورکرز کے حقوق کا وسیع تر معاملہ
نوائب کے مطابق اس معاملے کی اہمیت صرف آؤٹ لائر تک محدود نہیں، بلکہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کرنے والے کارکنوں کو درپیش وسیع تر مسائل کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:ہیکرز متحرک، بجلی بل سبسڈی اسکیم کے نام پر شہریوں کا ڈیٹا چوری کرنے کی کوشش
تنظیم نے توجہ دلائی کہ پلیٹ فارم ورکرز کا یہ طبقہ دیگر شعبوں میں بھی موجود ہے، جن میں اوبر جیسی کوریئر یا سواری کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں اور کھانے کی ڈیلیوری کے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
ایسے کارکن اکثر ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے کام حاصل کرتے ہیں اور اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے پلیٹ فارم کی مقرر کردہ شرائط پر انحصار کرتے ہیں۔
نوائب کے مطابق اس صورت حال میں ذاتی معلومات کے تحفظ، نگرانی کے طریقوں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ایک اہم چیلنج ہے۔
یورپ کے 4 ممالک میں اسکیل اے آئی کے خلاف 5 قانونی شکایات کا اعلان اسی بحث کا حصہ ہے، جس میں ڈیجیٹل معیشت کے پھیلاؤ کے ساتھ کارکنوں کی رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔











