کیا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے بیانات سے غصے کا اظہار کررہی ہیں؟

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ان دنوں سوشل میڈیا، بالخصوص ’ایکس‘ پر اپنے بیانات اور ٹوئٹس کے ذریعے عوام کو درپیش مشکلات، غریبوں اور مزدور طبقے کے استحصال اور دولت و طاقت کے بل بوتے پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے عناصر کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کر رہی ہیں۔

مریم نواز کا واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی قسم کا استحصال وزیراعلیٰ کی ریڈ لائن ہے، اس معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی ہے اور عوام کی تکلیف ان کے لیے کسی صورت قابل برداشت نہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں سفارش کا دور ختم ہوچکا، کسی بااثر شخص کو غریب کا حق نہیں مارنے دیں گے، مریم نواز

حالیہ واقعات میں لاہور کے جوبلی ٹاؤن میں واقع ایک پیٹرول پمپ پر پیش آنے والا واقعہ سب سے زیادہ زیر بحث رہا۔ سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر پٹرول پمپ کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے بااثر شخص کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد متاثرہ ملازم نے پولیس کی حراست میں موجود ملزم کو تھپڑ مارے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 23 اکتوبر 2026 کو اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ان بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو خود سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور دولت و طاقت کے بل بوتے پر خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بطور وزیراعلیٰ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیر اور طاقتور طبقے کا نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس کے خلاف کھڑا شخص دولت یا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

’سلطان راہی کلچر کے مقبول عوامی فیصلے‘

سینیئر صحافی ماجد نظامی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اپنی حکومت پر ہونے والی تنقید سے خاصی پریشان ہیں۔ جہاز کی خریداری پر ہونے والی تنقید سے لے کر اب تک پنجاب حکومت کی میڈیا حکمت عملی کامیاب دکھائی نہیں دیتی، اسی لیے مقبول عوامی فیصلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، حالانکہ ان فیصلوں کے حوالے سے آئینی اور قانونی نوعیت کے سنجیدہ سوالات بھی موجود ہیں۔

ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ مریم نواز اصلاحات کے بجائے سلطان راہی کلچر کی طرز کے مقبول عوامی فیصلوں کو ترجیح دے رہی ہیں تاکہ لوگ ان کے اقدامات کی تعریف کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز اس خدشے کے باعث بھی پریشان ہیں کہ اگر صوبوں کی تقسیم کا معاملہ سامنے آتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ موجودہ پنجاب کی آخری وزیراعلیٰ ہوں۔ اسی لیے وہ ایسے اقدامات کرنا چاہتی ہیں جن کے نتائج فوری طور پر سامنے آئیں اور مستقبل میں ان کی مثال دی جا سکے۔

مریم نواز نے دیگر واقعات پر بھی سخت ردعمل دیا، جن میں اسکول میں استاد کی جانب سے بچے پر تشدد کا واقعہ بھی شامل ہے۔ اس واقعے پر انہوں نے جذباتی انداز میں سخت الفاظ میں مذمت کی اور بعد میں وضاحت کی کہ ان کا ردعمل بچے کے ساتھ روا رکھے گئے وحشیانہ سلوک پر غصے کا اظہار تھا۔

اسی طرح اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کے واقعے کے بعد انہوں نے خود متاثرہ لڑکی سے بات کی اور کہا کہ اس شخص کو اتنی ہی بار تھپڑ مارے جانے چاہییں جتنی بار اس نے لڑکی کو مارا تھا۔

تاہم متاثرہ لڑکی نے کہا کہ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ حکومت نے اسے تحفظ اور دیکھ بھال کا احساس دلایا اور یقین دلایا کہ انصاف اس کے ساتھ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کو درپیش تکالیف برداشت نہیں کرتیں اور ایسے واقعات پر فوری کارروائی کرتی ہیں۔

’وزیراعلیٰ پنجاب تنقید کی وجہ سے پریشان ہیں‘

سینیئر صحافی احمد ولید کے مطابق جہاز کی خریداری کے معاملے پر پنجاب حکومت کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ صوبے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے غیر معمولی نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو اس قسم کے بیانات دینے کے بجائے مؤثر قانون سازی پر توجہ دینی چاہیے۔

احمد ولید نے کہا کہ شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب دور میں بھی پولیس مقابلوں کے متعدد واقعات پیش آئے، لیکن انہوں نے کبھی سامنے آ کر اس نوعیت کے بیانات نہیں دیے، جبکہ مریم نواز سی سی ڈی کی کارروائیوں کی کھلے عام حمایت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس طرز عمل سے معاشرے میں تشدد کے کلچر کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اپنے بیانات پر غور کرنا چاہیے۔ اگر عوام کو اسی طریقے سے انصاف دلانا ہے تو پھر عدالتوں اور متعلقہ اداروں کو بند کر دینا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔

’پنجاب حکومت زیرو ٹالرونس پر کاربند‘

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ماڈل اور وژن کی بھرپور حمایت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت وزیراعلیٰ کے وژن کے مطابق کام کر رہی ہے، بیوروکریسی منصوبوں کی تکمیل اور ان پر عمل درآمد کے لیے سرگرم ہے، جبکہ عوامی مفاد، صحت، صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔

مریم اورنگزیب کے مطابق استحصال، بدعنوانی اور عوام پر ظلم کی کسی بھی شکل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کاربند ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور وزیراعلیٰ کا مشن ہر شہری کی تکلیف کا ازالہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کا استحصال وزیراعلیٰ کی ریڈ لائن ہے۔

مزید پڑھیں: ’پنجاب کے ہر پراجیکٹ میں مریم نواز اور ان کی ٹیم کی محنت نظر آتی ہے، وفاقی اصلاحاتی کمیٹی کی ستائش

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہاکہ مریم نواز کی حکومت میں طاقتور عناصر کو جواب دہ بنایا جا رہا ہے اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کا احساس دلایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp