وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے جون 2024 میں لاہور سے ’مریم کی دستک‘ پروگرام اور اس کی موبائل ایپ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ پروگرام لاہور میں صرف 10 بنیادی خدمات تک محدود تھا، تاہم 3 ماہ کے اندر اس کا دائرہ کار 11 اضلاع میں 60 سے زائد خدمات تک وسیع کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: مریم کی دستک کے بعد ’بولو کشمیر‘، آزاد کشمیر میں اب پنجاب ماڈل چلے گا، افتخار گیلانی نے سمت واضح کردی
بعد ازاں پروگرام کو مرحلہ وار مزید اضلاع تک توسیع دی گئی اور اکتوبر 2024 تک یہ 22 اضلاع، پھر 32 اضلاع اور اب 40 سے زیادہ اضلاع میں فعال ہے۔
اس پروگرام کا مقصد شہریوں کو سرکاری دفاتر کی طویل قطاروں، بار بار چکر لگانے، وقت کے ضیاع اور دفتری رکاوٹوں سے نجات دلانا ہے، خصوصاً خواتین، بزرگوں، بیمار اور معذور افراد کو سہولت فراہم کرنا اس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
تربیت یافتہ دستک سہولت کار شہریوں کے گھروں یا دفاتر میں پہنچ کر دستاویزات کی تصدیق، بائیو میٹرک تصدیق، فارم پُر کرنے اور متعلقہ کارروائی مکمل کرنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
سہولت کار بننے کے لیے کم از کم انٹرمیڈیٹ تعلیم، 18 سال سے زیادہ عمر، ذاتی موٹر سائیکل، اسمارٹ فون اور پولیس کلیئرنس لازمی شرائط میں شامل ہیں۔
یہ سہولت کار کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے اس پروگرام کے تحت اب تک ہزاروں نوجوان بطور سہولت کار رجسٹر ہو چکے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت 76 سے زیادہ سرکاری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں ڈومیسائل، پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے سرٹیفکیٹس، فرد اور رجسٹری، ای اسٹیمپنگ، جائیداد اور ٹوکن ٹیکس، نئی گاڑی کی رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی، لرنر اور ریگولر ڈرائیونگ لائسنس، ایف آئی آر کی نقل، کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس ویریفکیشن، کرایہ داروں کی رجسٹریشن اور ٹریفک چالان سے متعلق خدمات شامل ہیں۔
یہ خدمات محکمہ پولیس، ایکسائز، لوکل گورنمنٹ، بورڈ آف ریونیو، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں سے منسلک ہیں۔ شہری اپنی سہولت کے مطابق آن لائن سیلف سروس یا گھر کی دہلیز پر خدمات حاصل کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ فیس کی ادائیگی کے لیے بینک ٹرانسفر، جاز کیش، ایزی پیسہ، کیش آن ڈیلیوری اور پی ایس آئی ڈی سمیت مختلف طریقے دستیاب ہیں۔
’مریم کی دستک‘ ایپ کے ذریعے 2024 سے 2026 تک شہریوں کی جانب سے تقریباً 48 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 38 لاکھ درخواست گزاروں کو ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی درخواستوں کا بھی میرٹ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
شہری اپنی درخواست کی ٹریکنگ آئی ڈی کے ذریعے اس کی تازہ ترین صورتحال معلوم کر سکتے ہیں۔ پروگرام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے دو طرفہ ریٹنگ سسٹم اور جی پی ایس ٹریکنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ’مریم کی دستک‘ ایپ کو اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے چیئرمین فیصل یوسف نے مختلف جائزہ اجلاسوں میں کہا کہ یہ پلیٹ فارم شہریوں کو سہولت فراہم کرنے، شفافیت یقینی بنانے اور سرکاری خدمات کی تیز رفتار فراہمی کی عملی مثال ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کے وقت اور اخراجات کی بچت ہوتی ہے بلکہ حکومت پر ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟
’مستقبل میں یونین کونسل کی سطح پر دستک سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس کے تحت مزید سرکاری خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جا سکیں گی۔ یہ اقدام پنجاب میں ڈیجیٹل طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ لاکھوں شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچا رہا ہے۔‘










