پاکستان میں جھینگوں کی فارمنگ کو وسعت دینے اور برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت نے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی غرض سے 120 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کردی ہے۔ منصوبے کے تحت مقامی اور عالمی منڈیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیداوار، پراسیسنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع بہتر بنائے جائیں گے۔
وزیراعظم کی قائم کردہ ذیلی کمیٹی نے منگل کو سمندری امور کے وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں جھینگوں کی فارمنگ اور برآمدات سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 120 دن کے اندر جامع روڈ میپ تیار کیا جائے گا، جبکہ منصوبے پر عمل درآمد اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے مجموعی طور پر 24 ماہ کا دورانیہ مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی تاریخ میں شریمپ (جھینگے) فارمنگ کا سب سے بڑا پائلٹ پراجیکٹ تیار
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے آبی زراعت کے شعبے کو مسابقتی اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف برآمدات میں اضافے کے ذریعے معاشی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دے چکے ہیں۔ رواں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ بھی اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ذیلی کمیٹی مستند اعداد و شمار اور متعلقہ فریقوں کی تجاویز کی بنیاد پر جامع رپورٹ تیار کرے گی۔ رپورٹ میں شعبے کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ پیداوار، پراسیسنگ اور برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
کمیٹی نے اس مقصد کے لیے 7 تکنیکی ورکنگ گروپس اور تخمینوں و لاگت کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کرنے کی منظوری بھی دی۔ یہ گروپس مجموعی طور پر 14 رپورٹس تیار کریں گے، جن میں برآمدات کے تخمینے بھی شامل ہوں گے۔
اجلاس میں اعداد و شمار جمع کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے مشترکہ طریقہ کار اپنانے، اہم مسائل کی نشاندہی اور اصلاحات کی تجاویز تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ متعلقہ اداروں کو ابتدائی 14 روزہ لائحہ عمل کے تحت اپنی ذمہ داریاں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات میں 24 فیصد اضافہ، حجم 255 ملین ڈالر تک پہنچ گیا
اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ماہی گیری کے محکموں کے نمائندوں کے علاوہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور وزارتِ غذائی تحفظ و وزارتِ سمندری امور کے حکام شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد جھینگوں کی فارمنگ میں رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے ان کا عملی حل تلاش کرنا، پراسیسنگ کے نظام کو بہتر بنانا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ملک میں جھینگوں کی فارمنگ کے امکانات سے فائدہ اٹھائے گی۔
اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری لائیو اسٹاک و فشریز نے بتایا کہ صوبے میں 3,500 ایکڑ رقبے پر جھینگوں کی فارمنگ کے منصوبے کے لیے قابل عمل ہونے کا جائزہ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پراسیسنگ، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور پیداوار کی نگرانی کے نظام سے متعلق مسائل حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پنجاب کے سیکریٹری آبی زراعت و ماہی گیری رانا سلیم افضل نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے متعلقہ محکمے پنجاب میں جھینگوں کی فارمنگ متعارف کرانے کے لیے کام کررہے ہیں۔
ان کے مطابق زیر زمین پانی میں نمکیات کی زیادہ مقدار کے باعث پنجاب کے کئی علاقے روایتی فصلوں کی کاشت کے لیے موزوں نہیں۔ ایسے علاقوں میں جھینگوں کی فارمنگ کے امکانات سے فائدہ اٹھانے اور ہیچریاں قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم پیداوار سے لے کر پراسیسنگ اور فروخت تک مؤثر نظام قائم کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو روسی مارکیٹ تک رسائی، سی فوڈ ایکسپورٹ میں بڑی پیش رفت
اجلاس کے دیگر شرکا نے مقامی استعمال اور برآمدات کے لیے جھینگوں کی پراسیسنگ اور مصنوعات کی قدر بڑھانے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جھینگوں اور بڑے جھینگوں کی طلب کا حوالہ دیتے ہوئے اس شعبے کو مقامی منڈی اور برآمدی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں سامنے آنے والی رکاوٹوں اور دستیاب بنیادی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ جھینگوں کی فارمنگ کے فروغ کے لیے مزید اقدامات طے کیے جاسکیں۔
اس سے قبل اپریل میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بتایا تھا کہ سرگودھا اسٹیٹ، علی والا اور شاہ گڑھ میں جھینگوں کی فارمنگ کے منصوبوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں پیش رفت ہوئی ہے۔
پنجاب حکومت نے غیر استعمال شدہ زمینوں کو قابلِ استعمال بنانے اور جدید سائنسی طریقوں سے جھینگوں کی فارمنگ متعارف کرانے کے لیے بلیو اکانومی پروگرام بھی شروع کیا ہے۔
وفاقی حکومت کے مطابق پاکستان سے مچھلی اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ پاکستانی سمندری خوراک کی بڑی منڈیوں میں چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، جاپان، ویتنام، سعودی عرب، جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور امریکا شامل ہیں۔
حکومت کو امید ہے کہ جھینگوں کی فارمنگ، پراسیسنگ اور برآمدی نظام کو بہتر بنا کر سمندری خوراک کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جاسکے گا۔











