جماعت اسلامی خیبرپختونخوا (شمالی) کے امیر اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو 2024 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا کے عوام نے حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مظلومیت کے بیانیے پر ووٹ دیا۔ ان کے مطابق صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت بدانتظامی، کرپشن اور گورننس کی ناکامیوں کا شکار رہی، جبکہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہیں۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عنایت اللہ نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی میں صرف سیاسی بیانیے کا نہیں بلکہ مظلومیت کے تاثر کا زیادہ کردار تھا۔ پی ٹی آئی نے اس تاثر کو مؤثر انداز میں استعمال کیا اور عوام سے حمایت حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران ملک بھر میں ’ظلم کا بدلہ ووٹ‘ کا نعرہ سامنے آیا۔ ان کا اپنا گھر افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور جب وہ ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے پولنگ اسٹیشن کی طرف جاتے تھے تو راستے میں دیواروں پر بڑے حروف میں یہی نعرہ لکھا دیکھتے تھے۔
عنایت اللہ کے مطابق تحریک انصاف نے مظلومیت کے تاثر کو جس مؤثر انداز میں استعمال کیا، اسی کی بنیاد پر اسے انتخابی کامیابی حاصل ہوئی، ورنہ حکومتی کارکردگی ایسی نہیں تھی کہ عوام اسے دوبارہ ووٹ دیتے۔
پی ٹی آئی کی حکومت میں کرپشن اور گورننس کی ناکامیاں
سابق صوبائی وزیر نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک پی ٹی آئی جیسی کرپٹ اور نااہل حکومت کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہاکہ 2018 کے بعد قائم ہونے والا حکومتی نظام بھی کرپشن، نااہلی اور گورننس کی سنگین ناکامیوں کا شکار تھا، جبکہ اس کے بعد آنے والی حکومتوں کی کارکردگی بھی ایک دوسرے سے بدتر رہی۔
عنایت اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی، بدامنی میں اضافہ ہوا، کرپشن انتہا کو پہنچ گئی، بلدیاتی نظام تباہ کر دیا گیا اور عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف گزشتہ 13 سے 14 سال سے خیبرپختونخوا میں حکومت کررہی ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کو ملنے والے ووٹ حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی قیادت، سیاسی بیانیے اور مظلومیت کے تاثر کا نتیجہ تھے۔
’پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے مظلومیت کا بیانیہ استعمال کیا‘
اس سوال پر کہ دیگر سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کی طرح مظلومیت کے بیانیے کو مؤثر انداز میں کیوں استعمال نہیں کرتیں، عنایت اللہ نے کہا کہ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دور میں یہ طریقہ اختیار کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان حکومتوں میں آنے کے بعد پہنچا۔ اب پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر سیاسی جماعت اب اندرون سندھ تک محدود ہو چکی ہے۔
عنایت اللہ نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی نے عوامی ووٹوں کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ وہاں اسے فارم 47 کی بنیاد پر کامیابی ملی، جبکہ اس کا اصل سیاسی اثرورسوخ اندرون سندھ تک محدود ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سیاسی جماعتیں حکومت میں آتی ہیں اور عوام کو کچھ فراہم نہیں کرتیں تو لوگ ان سے دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1999 کے بعد اس جماعت کے ساتھ بھی بہت کچھ ہوا، لیکن وہ دوبارہ سیاسی منظرنامے پر ابھری۔ تاہم جب مسلم لیگ ن نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ چھوڑ دیا تو اس کی سیاسی صورتحال تبدیل ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوں تو مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی حیثیت واضح ہو جائے گی۔
عنایت اللہ نے کہا کہ مظلومیت کا بیانیہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف تینوں استعمال کر چکی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے خطے میں ووٹرز اکثر یہ نہیں دیکھتے کہ جس جماعت کو وہ ووٹ دے رہے ہیں، وہ خود کتنی جمہوری ہے، اس میں حکومتی امور چلانے کی صلاحیت اور اہلیت موجود ہے یا نہیں اور وہ کرپشن میں ملوث ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق عوام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور صلاحیت کے بجائے ان کے بیانیے اور مظلومیت کی سیاست سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔
’12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی نظام صوبے کی آئینی وحدت تقسیم کرنے کی کوشش ہے‘
خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے متعارف کرائے گئے نئے گورننس ماڈل سے متعلق سوال پر عنایت اللہ نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا ایک سیاسی مؤقف ہے، جس کا وہ پہلے بھی اظہار کر چکے ہیں، تاہم وہ حکومتی اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر بھی اس اقدام کو دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں اور خیبرپختونخوا کے انتظامی نظام اور گورننس کے معاملات پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی سیٹ اپ قائم کرنے کی کوشش دراصل خیبرپختونخوا کی آئینی وحدت کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔
’قبائلی اضلاع کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مجرمانہ غفلت برتی‘
قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد عمران خان اور شہباز شریف کی حکومتوں کی کارکردگی سے متعلق سوال پر عنایت اللہ نے کہا کہ ان کے خیال میں حکومتوں نے قبائلی اضلاع کے معاملات میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے مسائل کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا گیا اور نہ ہی وہاں کے عوام کی ثقافت، روایات، اقدار اور معاشرتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
سابق صوبائی وزیر کے مطابق 2018 میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور اس کے بعد 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت، جبکہ 2024 میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نے بھی قبائلی اضلاع سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حکومتوں کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے متعلق سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ اور اس کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
عنایت اللہ کے مطابق وفاقی حکومتیں اکثر انضمام کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالتی رہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ صوبائی حکومت نے غفلت برتی، لیکن وفاقی حکومت کے ذمے جو اقدامات تھے، وہ بھی مکمل نہیں کیے گئے۔
’قبائلی اضلاع کا انضمام درست فیصلہ تھا، اسے واپس نہیں ہونا چاہیے‘
عنایت اللہ نے واضح کیا کہ قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام بذات خود غلط فیصلہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت بھی انضمام کو درست فیصلہ سمجھتے تھے اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کا فیصلہ واپس نہیں ہونا چاہیے، تاہم انضمام کے نتیجے میں وہاں کے عوام کو جن فوائد اور سہولیات کی فراہمی کی توقع تھی، وہ پوری نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد ترقیاتی منصوبوں، مالی وسائل اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوا، جس سے قبائلی عوام میں بداعتمادی بڑھی۔
’این ایف سی میں 3 فیصد حصہ اور سالانہ 100 ارب روپے کے وعدے پورے نہیں ہوئے‘
سابق صوبائی وزیر نے قبائلی اضلاع کے لیے مختص مالی وسائل سے متعلق کہا کہ خیبرپختونخوا کے صوبائی بجٹ میں ’ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام‘ کے تحت بڑی رقوم ظاہر کی جاتی تھیں، لیکن یہ رقوم درحقیقت غیر فنڈ شدہ ہوتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب متعلقہ حکام سے پوچھا جاتا کہ غیر فنڈ شدہ رقم کا کیا مطلب ہے تو جواب ملتا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبے کو حصہ ملنے کے بعد یہ رقم خرچ کی جائے گی۔
عنایت اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے این ایف سی میں 3 فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔
’اس کے علاوہ سالانہ 100 ارب روپے اور 10 سال کے دوران مجموعی طور پر 1000 ارب روپے فراہم کرنے کے وعدے بھی کیے گئے تھے، لیکن ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔‘
انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں جن سرکاری بھرتیوں کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ بھی نہیں ہو سکیں۔
ان کے مطابق انضمام کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور تعاون کا کوئی مناسب نظام بھی قائم نہیں کیا جا سکا۔
’صوبائی حکومت نے بھی قبائلی اضلاع کو نظرانداز کیا‘
عنایت اللہ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے مسائل کی ذمہ داری صرف وفاقی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی، کیونکہ صوبائی حکومت نے بھی اس معاملے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لیے مختص رقوم اور مالی انتظامات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پرانا نظام ہی جاری رہا۔
ان کے مطابق انضمام کے بعد صوبائی حکومت کو جو نئے انتظامی، مالی اور ترقیاتی اقدامات کرنے چاہیے تھے، وہ نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے بھی مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث قبائلی اضلاع کے عوام میں بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔
عنایت اللہ نے کہا کہ ان مسائل کا حل صوبے کی آئینی وحدت کو دوبارہ تقسیم کرنے میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق الگ انتظامی نظام قائم کرنے سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوں گے جن کے لیے قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام کیا گیا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں تاکہ وہاں کے عوام کو انضمام کے حقیقی فوائد مل سکیں۔










