امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل سائبر حملے کی کوشش کے باعث وفاقی الیکشن کمیشن کا الیکٹرانک فائلنگ نظام عارضی طور پر بند ہوگیا، جس سے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی تازہ تفصیلات جمع کرانے کا عمل متاثر ہوا ہے۔
امریکی وفاقی الیکشن کمیشن (ایف ای سی) نے ہیکنگ کی کوشش کے بعد اپنی ویب سائٹ سے منسلک بعض خدمات اور الیکٹرانک فائلنگ نظام عارضی طور پر بند کردیا۔ کمیشن کے مطابق آئی ٹی عملہ نظام بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، تاہم صارفین ویب سائٹ پر پہلے سے جمع کرائی گئی انتخابی مالیاتی رپورٹس تلاش کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے چین کے ہیکنگ نیٹ ورک کے خلاف امریکا کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 اہم انٹرنیٹ ڈومینز ضبط
یہ تعطل پیر کی رات دیر گئے شروع ہوا، جب 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا۔ اس کے باعث سیاسی کمیٹیوں، امیدواروں اور سپر پی اے سی نامی سیاسی فنڈز کے لیے انتخابی اخراجات سے متعلق لازمی 24 اور 48 گھنٹوں کی رپورٹس جمع کرانے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ ان رپورٹس کے ذریعے مختلف انتخابی حلقوں میں سیاسی گروپوں کے اخراجات، اشتہاری مہمات اور دیگر مالی سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔
🚨 BREAKING: Hacking attempts forced the US Federal Election Commission to shut down its web-facing services, Reuters reports.
E-filing has been down since Monday, blocking 24- and 48-hour spending reports a week before the midterms. https://t.co/xJzNWekBIe
— International Cyber Digest (@IntCyberDigest) October 27, 2026
سیاسی مالیاتی ضابطوں کے ماہر اسٹیون میلی کے مطابق، جنہیں سیاسی مالیاتی تعمیل سے متعلق مشاورتی ادارے ایم بی اے کنسلٹنگ گروپ سے وابستہ بتایا گیا ہے، اپنے 26 سالہ تجربے میں انہوں نے اس نوعیت کی صورت حال نہیں دیکھی۔ ان کا کہنا ہے کہ نظام کی بحالی تک انتخابی اخراجات سے متعلق معلومات کے افشا ہونے میں کمی رہے گی، جس سے عوامی نگرانی متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا چین سائبر جنگ میں شدت، چینی ہیکرز نے امریکی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا
حکام اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن انتخابی عمل یا ووٹ ڈالنے کے نظام کا انتظام نہیں کرتا، اس لیے اس تعطل سے ووٹرز کی 3 نومبر کو حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کی توقع نہیں۔ امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف بی آئی) سائبر سیکیورٹی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم ہیکنگ کی کوشش کے ذمہ داروں کے بارے میں باضابطہ طور پر کسی کا نام سامنے نہیں آیا۔










