امریکا نے چین سے جنم لینے والے سائبر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے چین پر مبنی کمپنی ‘انٹیگریٹی ٹیکنالوجی گروپ’ سے وابستہ ہیکرز کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔
محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، حالیہ آپریشن کے تحت ہیکرز کے زیرِ استعمال 7 انٹرنیٹ ڈومینز کا کنٹرول حاصل کر کے انہیں بلاک کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چینی ہیکرز ان ڈومینز کی مدد سے امریکا اور دیگر غیر ملکی اہم ترین اور حساس سائبر سسٹمز کو سکین کر کے ان میں نفوذ (سائبر حملے) کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کا چینی ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ، حساس اداروں کو نشانہ بنانے کا انکشاف
امریکی وزارتِ انصاف کی جانب سے انٹیگریٹی ٹیکنالوجی کے ہیکنگ نیٹ ورک کے خلاف کی جانے والی یہ دوسری علانیہ اور بڑی کارروائی ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2024 میں عدالت سے منظوری کے بعد ایک آپریشن میں اسی کمپنی کے ‘بوٹ نیٹ’ نیٹ ورک کو تباہ کیا گیا تھا، جس نے امریکا سمیت دنیا بھر میں ڈھائی لاکھ سے زائد صارف ڈیوائسز اور کمپیوٹرز کو ہیک کر رکھا تھا۔
اس وقت کے ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر وِرے نے انٹیگریٹی ٹیک پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ چین کے اہم ہیکنگ گروپ ’فلیکس ٹائفون‘ کی پشت پناہی کر رہی ہے، جو بیجنگ کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے لیے استخباراتی معلومات جمع کرنے اور ریکی کرنے کے کاموں میں ملوث پایا گیا تھا۔ تاہم، واشنگٹن میں واقع چینی سفارت خانے نے اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے امریکا چین سائبر جنگ میں شدت، چینی ہیکرز نے امریکی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا
اس سے قبل اگست میں بھی امریکا نے چین پر ناسا، امریکی سینیٹ اور فیڈرل ریزرو سمیت متعدد اہم اداروں پر ‘ریاستی سرپرستی میں’ سائبر حملے کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کارروائی میں بھی امریکی حکومت نے ‘کیو سکین’ اور ‘کیو ٹی راؤٹر’ نامی دو ہیکنگ پلیٹ فارمز کے ڈومینز پر قبضہ کر لیا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہیں چینی ریاست کے حمایت یافتہ گروپ چلا رہے تھے۔
دوسری جانب، بیجنگ حکومت نے کسی بھی قسم کی غیر قانونی سائبر سرگرمی کی سختی سے تردید کی ہے اور سائبر سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر چین کو بدنام کرنے پر امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔














