چین سے تعلق رکھنے والے سائبر ہیکرز نے امریکی مصنوعی ذہانت ’اے آئی‘ پالیسی سے متعلق حساس معلومات اور ای میلز چرانے کے لیے سابق امریکی اعلیٰ عہدیدار کا سوانگ رچا کر تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں کے ماہرین کو نشانہ بنایا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی ’پروف پوائنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کا مقصد امریکی اے آئی حکمت عملی اور قومی پالیسیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اور ’اینتھروپک‘ کی اعلیٰ عہدیدار لِین پارکر کی جعلی شناخت استعمال کی۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کے اہم ہوائی اڈے بڑے سائبر حملے کی زد میں: لاکھوں مسافروں کا ڈیٹا ہیکرز کے ہاتھ لگ گیا
ہیکرز نے اے آئی کے فروغ اور باہمی تعاون کا جھانسہ دے کر ماہرین کو پاس ورڈ چرانے والی ویب سائٹس پر بھیجنے کی کوشش کی۔
متاثرہ افراد اور سائبر حملے کا دائرہ کار
پروف پوائنٹ کے مطابق اس مہم کے تحت 10 سے کم افراد کو ہدف بنایا گیا، جن میں قومی اے آئی اسٹریٹجی، ریگولیشن اور ایکسپورٹ کنٹرول پر کام کرنے والے ماہرین شامل تھے۔
پنسلوانیا کے ’پین سینٹر آن میڈیا، ٹیکنالوجی اینڈ ڈیموکریسی‘ کے سربراہ ایلکس اینگلر بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ لِین پارکر نے تصدیق کی کہ رواں برس جولائی میں کم از کم 2 افراد کو یہ مشکوک پیغامات موصول ہوئے تھے۔
چین اور امریکا کے درمیان اے آئی کی دوڑ
واضح رہے یہ کارروائی امریکا اور چین کے درمیان تکنیکی برتری کی رقابت کا شاخسانہ ہے۔ لِین پارکر کا کہنا ہے کہ اے آئی پالیسی سے وابستہ افراد سے اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش حیران کن نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:اوپن اے آئی نے ہگنگ فیس سائبر حملے کی مزید تفصیلات جاری کردیں
پروف پوائنٹ کے محقق مارک کیلی کے مطابق خطرات پیدا کرنے والا یہ گروپ چینی حکومت کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق ’TA419‘ نامی یہ چینی ہیکنگ گروپ 2025 سے امریکا اور جاپان کے اداروں، فوج، دفاعی کمپنیوں اور لا فرموں سے پاس ورڈ چرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ انکشاف واشنگٹن میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے اے آئی واقعات کی رپورٹنگ کے لیے مواصلاتی چینل قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔













