فرانسیسی فٹبال اسٹار کلیان ایمباپے نے چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق پر معافی مانگ لی ہے، تاہم اس معاملے پر چین کی 3 کمپنیوں نے ان کے ساتھ اسپانسرشپ کے معاہدے ختم کردیے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایمباپے اپنے پسندیدہ انٹرنیٹ میم کا ذکر کرتے ہوئے ایک شخص کو ’چینی آمر‘ قرار دیتے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں ان کے چہرے کو ماؤ زے تنگ کی تصویر پر لگایا گیا تھا۔ اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔
Kylian Mbappé APOLOGIZES following OUTRAGE in China over his 'Mao Zedong' remarks
'My comment was ill-judged, and I now understand that it hurt many people in China and in Chinese communities around the world,' Real Madrid star said in a statement https://t.co/kK8ZnUYlsV pic.twitter.com/ePNM1ARS8n
— RT Intl (@RT_on_X) October 27, 2026
ایمباپے نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ ان کا تبصرہ غیر محتاط تھا اور اب انہیں احساس ہے کہ اس سے چین اور دنیا بھر میں چینی برادری کے لوگوں کو دکھ پہنچا۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ چینی عوام اور ان کی تاریخ کا گہرا احترام کرتے ہیں۔
چین کی مشروبات بنانے والی کمپنی ڈونگ پینگ، ڈیری مصنوعات کی بڑی کمپنی مینگنیو اور پنیر بنانے والی کمپنی ملک گراؤنڈ نے ایمباپے کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا۔ تینوں کمپنیوں نے قومی جذبات مجروح کرنے والے بیانات اور اقدامات کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔
چینی فٹبال ایسوسی ایشن نے ایمباپے اور ان کے کلب ریال میڈرڈ سے باضابطہ عوامی معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ چائنا میڈیا گروپ نے ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا اور ایمباپے سے متعلق دیگر میچوں کی نشریات معطل کرنے اور ان کے اشتہارات ہٹانے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق، چین میں ایمباپے کی اسپانسرشپ ختم
لا لیگا نے چینی شائقین کے جذبات مجروح ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایمباپے کے تبصرے ذاتی نوعیت کے تھے اور لیگ کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔ لیگ نے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کھلاڑیوں اور کلبوں کے لیے رابطے کا طریقۂ کار وضع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
چین میں ماؤ زے تنگ سے متعلق مذاق کو حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے پر چینی سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں صارفین نے ایمباپے کے خلاف کارروائی اور ان کے اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا۔











