آنجہانی پروفیسر جیسن آرڈے پر سرقے کے الزامات ثابت نہ ہو سکے، پبلشر کی نئی تحقیقات مکمل

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسی اشاعتی ادارے ٹیلر اینڈ فرانسس کی تازہ تحقیقات میں کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کے خلاف سرقے کے دوبارہ عائد کیے گئے الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پبلشر کے مطابق متعلقہ تحقیقی مقالے کا جائزہ لینے کے بعد 2024 میں جاری کردہ تصحیحی نوٹس میں مزید اضافے کی کوئی وجہ نہیں ملی۔

بائی لائن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جیسن آرڈے کے مقالے ’اٹیمپٹنگ ٹو بریک دی چین‘ سے متعلق میڈیا میں سامنے آنے والے دعوؤں پر اگست میں ابتدائی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت

پبلشر نے جریدے کے مدیران سے مشاورت کے بعد تحقیقات مکمل کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزید تصحیح کی ضرورت نہیں۔

یہ پیش رفت برطانوی اخبار دی ٹائمز کی اس رپورٹنگ پر سوالات اٹھاتی ہے جس میں جیسن آرڈے کے متعدد تحقیقی مقالوں میں مبینہ سرقے اور ’ناممکن ڈیٹا‘ سے متعلق دعوے کیے گئے تھے۔

بائی لائن ٹائمز کے مطابق، ان رپورٹس کے بعد عالمی میڈیا میں آرڈے کو مسلسل سرقہ کرنے والے محقق کے طور پر پیش کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دی ٹائمز نے آرڈے کے 2018 کے ایک تحقیقی مقالے کو واپس لیا گیا قرار دیا تھا، حالانکہ اس میں صرف تصحیح کی گئی تھی۔

بائی لائن ٹائمز کے مطابق، اس معاملے میں سرقے یا ڈیٹا میں جعل سازی ثابت نہیں ہوئی تھی اور مقالے کی سائنسی افادیت برقرار رہی تھی۔

اسی طرح، آرڈے کے 2020 کے ایک مقالے کی بھی نشاندہی کی گئی، تاہم رپورٹ کے مطابق ٹیلر اینڈ فرانسس اس کا پہلے ہی جائزہ لے کر الزامات کی تصدیق نہ ہونے کا نتیجہ دے چکا تھا۔

مزید پڑھیں: ہارورڈ یونیورسٹی کی پہلی سیاہ فام صدر استعفٰی دینے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

تازہ تحقیقات کے دوران مقالے پر موجود زیرِ تفتیش ہونے کا نوٹس بھی ہٹا دیا گیا۔

بائی لائن ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ جیسن آرڈے کے خلاف 4 باضابطہ تحقیقات کے باوجود سرقے کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب، کمیٹی فار اکیڈمک فریڈم نے آرڈے کی کیمبرج یونیورسٹی میں تقرری، ان کی تعلیمی حیثیت اور بھرتیوں میں مساوات، تنوع اور شمولیت کی پالیسیوں کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے الگ تحقیقات شروع کی ہیں۔

بائی لائن ٹائمز کے مطابق، اس کمیٹی کو ریفارم یو کے کے بڑے عطیہ دہندہ بین ڈیلو کی مالی معاونت حاصل ہے، تاہم عطیے کی رقم واضح نہیں۔

رپورٹ میں کمیٹی اور آرڈے کے خلاف مہم سے وابستہ بعض افراد کے روابط پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

کمیٹی نے تحقیقات کی مالی معاونت اور عطیہ دہندگان کے ممکنہ اثرورسوخ سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

کیمبرج یونیورسٹی نے بھی جیسن آرڈے کی موت سے قبل انہیں دستیاب معاونت اور یونیورسٹی کے طریقۂ کار کا جائزہ لینے کے لیے آزادانہ تحقیقات شروع کی ہیں۔

جیسن آرڈے 14 اگست کو جنوبی لندن میں اپنے گھر پر مردہ پائے گئے تھے، بائی لائن ٹائمز کا مؤقف ہے کہ برطانوی میڈیا نے نئی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد بھی اپنے سابقہ دعوؤں کی مناسب اصلاح نہیں کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp