اسلام مخالف نصاب اور پالیسیوں کا ردِعمل: ٹیکساس کی مساجد ووٹر رجسٹریشن سینٹرز میں تبدیل

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے قبل ریاست ٹیکساس میں مسلم برادری نے اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور عوامی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بڑی سیاسی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات کے پیشِ نظر ہوسٹن کی مساجد اب ووٹر رجسٹریشن مراکز کا کام بھی انجام دے رہی ہیں۔

مقامی مسلم رہنماؤں کے مطابق وہ ہر ہفتے تقریباً 1,000 نئے ووٹرز کو انتخابی فہرستوں میں شامل کروا رہے ہیں۔ ٹیکساس میں یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب ریپبلکن اکثریت والے ‘اسٹیٹ بورڈ آف ایجوکیشن’ نے سوشل اسٹڈیز کے ایک نئے نصاب کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیے امریکی رکن کانگریس کا مسلمانوں سے متعلق توہین آمیز بیان، دنیا بھر میں شدید ردعمل

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ نیا نصاب اسلام کی تصویر کو غیر منصفانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہائی اسکول کے اس متنازع نصاب میں طلبہ کو یہ پڑھایا جائے گا کہ 9/11 کے حملوں کی وجہ ’انقلابی/شدت پسند اسلام‘ تھا، بجائے اس کے کہ ان میں ملوث دہشتگرد گروہوں پر توجہ مرکوز کی جاتی۔ تاہم، نصاب کے حامی اس کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مغربی تہذیب اور امریکا و ٹیکساس کی بنیادوں کو سمجھانے کا حصہ ہے۔

یہ تنازع اب امریکی مسلمانوں کے سامنے ایک بڑے سوال کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ کیا بہتر سیاسی تنظیم کے ذریعے وہ ( مسلمان) عوامی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اپنے خلاف امتیازی سلوک کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

پالیسی سازی اور لابنگ میں گروپس کا کردار

امریکی سیاسی نظام میں، وکالت اور تحفظِ حقوق کے  گروہ عام خدشات پر ووٹرز کو متحرک کر کے انتخابات اور پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہ گروپس ووٹرز کی رجسٹریشن، کمیونٹی کی آگاہی، امیدواروں کی حمایت اور منتخب نمائندوں پر اثر انداز ہونے کا کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ‘آئی پیک’ (AIPAC) جیسے ادارے اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ کس طرح منظم لابنگ سیاسی بحث کو کا رخ موڑ سکتی ہے۔

امریکی مسلمانوں کے لیے بھی ایسے ہی گروہ انتخابی طاقت کو یکجا کرنے، امیدواروں سے بات چیت کرنے اور اپنے مسائل پر توجہ مبذول کرانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان کے تحفظات سول رائٹس، امیگریشن، معیشت سے لے کر مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ٹیکساس کا انتخابی معرکہ اور سیاسی قیادت کا ردِعمل

3 نومبر کو ٹیکساس کے ووٹرز امریکی سینیٹ کی ایک انتہائی اہم نشست، گورنر کے عہدے اور امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) کی تمام 38 نشستوں کا فیصلہ کریں گے۔

سینیٹ کی نشست کے لیے ریپبلکن کین پیکسٹن، ڈیموکریٹ جیمز ٹیلریکو اور لبرٹیرین ٹیڈ براؤن کے درمیان مقابلہ ہے۔ جب کہ گورنر کے عہدے کے لیے ریپبلکن گریگ ایبٹ چوتھی بار کامیابی کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوجوسا اور لبرٹیرین پیٹ ڈکسن کے مدِ مقابل ہیں۔

امریکن مسلم ڈیموکریٹک کاکس کے شریک چیئرمین سید حسن نے کاکس کی 2026ء کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم برادری کو جمہوریت کے مشترکہ نکات پر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بلیک یا وائٹ امریکا نہیں ہے، کوئی لبرل یا کنزرویٹو امریکا نہیں ہے، صرف ‘یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکا’ ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے امریکی مسلم تنظیم کی ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت، کانگریس سے ایران جنگ روکنے کا مطالبہ

سید حسن کا کہنا تھا ’ ہماری حکمتِ عملی سادہ ہے: ہم متحد ہوتے ہیں، منظم ہوتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں ہمارے محنت کش اور ایماندار میکسیکن اور لاطینی بھائی بہن نشانے پر تھے، اس بار مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور اگلی بار کوئی اور برادری نشانے پر ہوگی۔‘

دوسری طرف ریپبلکن پارٹی سے وابستہ مسلم رہنما الگ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ’امریکن مسلمز فار ٹرمپ‘ کے بانی اور پاکستانی نژاد امریکی تاجر ساجد تارڑ مسلمان ووٹرز پر زور دے رہے ہیں کہ وہ 2026 کے مڈ ٹرم الیکشن میں ریپبلکن امیدواروں کا ساتھ دیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ریپبلکن منشور امریکا میں مسلم کمیونٹی کی سلامتی اور معاشی خوشحالی کی سب سے بہتر ضمانت دیتا ہے۔

مسلم آبادی میں اضافہ اور تقسیم شدہ ووٹرز

پیؤ ریسرچ سینٹر (Pew Research Centre) کے ستمبر کے اندازے کے مطابق امریکا میں تمام عمر کے مسلمانوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 55 لاکھ (5.5 ملین) ہو چکی ہے، جو 2007 میں 24 لاکھ تھی۔ اگرچہ مسلمان قومی انتخابی عمل کا ایک چھوٹا حصہ ہیں، لیکن مخصوص شہروں اور حلقوں میں ان کی تعداد انتخابی نتائج کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پیؤ ریسرچ کے 2023-24ء کے سروے کے مطابق 53 فیصد بالغ مسلمان ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف میلان رکھتے ہیں جبکہ 42 فیصد ریپبلکن پارٹی کے حامی ہیں۔ امیگریشن اور نسلی تنوع کے معاملے پر مسلمان ووٹرز کے خیالات ڈیموکریٹس کے قریب ہیں، جبکہ خاندانی اقدار اور صنفی شناخت کے معاملے پر ان کے خیالات ریپبلکنز سے مماثلت رکھتے ہیں۔

خارجہ پالیسی اور مستقبل کا لائحہ عمل

مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکی پالیسی، بالخصوص غزہ پر اسرائیلی جارحیت، مسلم ووٹرز کے لیے ایک انتہائی اہم فیکٹر بن چکی ہے۔ بعض ووٹرز کے لیے خارجہ پالیسی یہ پرکھنے کا پیمانہ ہے کہ امیدوار ان کی آواز کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، جبکہ دیگر معیشت، صحت اور سول آزادیوں کو فوقیت دیتے ہیں۔

سید حسن نے کنونشن سے خطاب میں کہا ’اب عوام خود ایک خصوصی مفاداتی گروہ(Special Interest Group) ہیں۔ سرمایہ داروں اور لابسٹس کا اثر و رسوخ ختم ہونا چاہیے اور ایک مساوی سیاسی نظام قائم ہونا چاہیے۔‘

مسلم برادری کا یہ بڑھتا ہوا سیاسی جوش و خروش ان کے سیاسی وزن اور مستقبل کی پالیسیوں کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیر چوک انڈر پاس کی تعمیر، راول ڈیم چوک سے سرینا ہوٹل جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند

سردیوں کی آمد، اسلام آباد میں سستے اور اسٹائلش گرم کپڑے کہاں سے مل سکتے ہیں؟

امریکا کے وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی اہم پیشقدمی، ٹرمپ کی جماعت کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ

کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے ہونے جا رہے ہیں؟

جھوٹے الزام لگانا عاجزی اور جواب دینا تکبر ہے؟ مریم نواز کا سالک حسین کے بیان پر جوابی وار

ویڈیو

سردیوں کی آمد، اسلام آباد میں سستے اور اسٹائلش گرم کپڑے کہاں سے مل سکتے ہیں؟

امریکا کے وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی اہم پیشقدمی، ٹرمپ کی جماعت کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا