خودکش حملوں اور دہشتگردی کے خلاف فتوے کی علما کی جانب سے ایک بار پھر متفقہ توثیق

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئٹہ میں مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں نے خودکش حملوں، دہشتگردی، انتہا پسندی اور بے گناہ افراد کے قتل کے خلاف متفقہ فتویٰ کی توثیق کرتے ہوئے قومی بیانیے ‘پیغامِ پاکستان’ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ شرکا نے نوجوانوں کو انتہا پسندانہ نظریات سے محفوظ رکھنے اور ملک میں امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ اعلامیہ بدھ کو کوئٹہ میں جامعہ سلفیہ دعوت الحق میں قومی پیغامِ امن کمیٹی اور بلوچستان پیغامِ امن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام میں خودکش حملوں اور بے گناہ انسانوں کا قتل ممنوع ہے، جبکہ دہشتگردی اسلام سمیت دیگر مذاہب کی بنیادی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام میں خود کو یا کسی کو قتل کرنا حرام ہے، طاہر اشرفی کا کم عمر بچی کو خود کش حملے کے لیے تیار کرنے پر ردعمل

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو مذہب، فرقے یا کسی نظریے کے نام پر خونریزی کرنے، ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں۔ شرکا نے خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کو دہشتگردی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو مذہبی طور پر ناجائز، اخلاقی طور پر قابل مذمت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا۔

اجلاس کے شرکا نے خبردار کیا کہ نوجوان نسل کو گمراہ کرکے دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے والے عناصر انسانی زندگی اور پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں۔ انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے، قومی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی کوششوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

اعلامیے میں ملک کی سلامتی، استحکام اور عوام کی جان و مال کا تحفظ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا گیا۔ شرکا نے بلوچستان میں امن کے قیام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ دہشتگردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف متحد ہوکر کام کیا جائے گا اور مذہب یا فرقے کے نام پر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجلاس میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری، قومی اتحاد اور صوبے میں امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ شرکا نے مساجد اور دینی مدارس کو درپیش مسائل کے حل اور حکومت و متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کلمے کے نام پر بننے والے ملک کی مخالفت اسلام کے خلاف، مسلح جدوجہد حرام ہے : مفتی محمد کریم خان

علمائے کرام، مذہبی رہنماؤں، والدین، اساتذہ اور سماجی شخصیات پر مشتمل مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ نوجوانوں کو انتہا پسندانہ نظریات، نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گرد تنظیموں کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مساجد، دینی مدارس، تعلیمی اداروں اور سماجی مراکز کو امن، برداشت، اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین

اجلاس میں ایک الگ قرارداد کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مسلم دنیا میں اتحاد، امتِ مسلمہ میں یکجہتی، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے کوششوں کو سراہا گیا۔

قرارداد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور امن کے فروغ، سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور 26 اکتوبر کو تہران میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے ان کی سفارتی کوششوں کو قابل قدر قرار دیا گیا۔

شرکا نے ان اقدامات کو علاقائی کشیدگی میں کمی اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد میں کی جانے والی مثبت سفارتی کوششوں کی حمایت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دہشتگری کے پیچھے منظم سوچ کار فرما، خوارج اسلام کی غلط تشریح کررہے

اجلاس کی صدارت پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔ اجلاس میں مولانا علی محمد ابوتراب، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، مولانا سید سمیع اللہ آغا، مولانا قاسم حقانی، علامہ نصراللہ حسینی، مفتی محمد جان قاسمی، مولانا حزب اللہ عثمانی، مولانا سمیع اللہ اعوان، مولانا عبدالرحمٰن، مولانا عبداللہ حقانی، مفتی عمر فاروق، مولانا عبدالرحمٰن سلفی، پادری سائمن بشیر، سردار جسویر سنگھ اور دیگر علمائے کرام و مذہبی نمائندوں نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp