پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے دہشتگردی کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ گمراہ لوگ ہیں، اور دین اسلام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان کوئی عام ریاست نہیں بلکہ ایک اسلامی ریاست ہے، جو اس عقیدے پر قائم ہے کہ حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور اقتدار ایک مقدس امانت ہے۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ
آئین واضح طور پر اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا نظام پہلے ہی اسلامی اصولوں پر قائم ہے۔
اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر ریاست خود اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہے تو اس کے خلاف دہشتگردی کو جہاد کیسے کہا جا سکتا ہے؟
ریاستی اور مذہبی دونوں نقطہ نظر سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں معصوم شہریوں کے خلاف فتنہ الخوارج کی دہشتگردی جہاد نہیں بلکہ بغاوت ہے۔
یہ عناصر اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کرتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات اور طاقت کے لیے دین کا غلط استعمال کرتے ہیں، جو بیرونی دشمن عناصر کے اثرات سے بھی تقویت پاتا ہے۔
قرآن میں حکم ہے، ’اللہ کی اطاعت کرو، رسول اللہ ﷺکی اطاعت کرو اور تم میں سے جو صاحبِ اختیار ہیں ان کی بھی۔‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ قانونی اتھارٹی کی اطاعت لازم ہے۔ جو بھی گروہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے وہ اسلام کا دفاع نہیں بلکہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ اسلامی قانون میں اسے بغاوت کہا جاتا ہے جو سختی سے منع ہے۔
اسلام انسانی جان کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ قرآن میں ہے، ’جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔‘
تاہم پاکستان میں دہشتگرد گروہ معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، مساجد پر حملے کرتے ہیں، اسکولوں کو تباہ کرتے ہیں اور معاشرے میں خوف پھیلاتے ہیں۔ یہ اعمال ایمان نہیں بلکہ فساد فی الارض ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر ایسے تشدد سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ’عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو‘ (صحیح بخاری، حدیث 3015)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔
مزید یہ کہ احادیث میں خوارج کے بارے میں سخت الفاظ بیان ہوئے ہیں کہ وہ گمراہ اور جہنمی گروہ ہوں گے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: ’آخر زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی، جو عمر میں کم اور سوچ میں نادان ہوگی، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا‘ (بخاری 6934، مسلم 1066)۔
اسی طرح ان کے بارے میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ان سے لڑنے اور انہیں روکنے میں اجر ہے (بخاری، مسلم)۔
پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے 1800 سے زیادہ علما نے میثاقِ پاکستان (پیغامِ پاکستان) کے تحت متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ دہشتگردی اور خودکش حملے حرام ہیں۔ یہ کسی ایک کی رائے نہیں بلکہ ملک بھر کے علما کا متفقہ مؤقف ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد ممنوع ہے اور انتہا پسند گروہ خوارج کے راستے پر چلتے ہیں، جنہیں ابتدائی اسلام میں فساد اور تقسیم پھیلانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ گروہ مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اسے طاقت اور کنٹرول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اسلام میں جہاد کے بھی واضح اصول ہیں۔ یہ کسی فرد یا گروہ کا ذاتی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ جہاد صرف ایک جائز ریاستی اتھارٹی کے تحت ہوتا ہے۔ اس دائرے سے باہر کی جانے والی ہر کارروائی دہشتگردی ہے، جہاد نہیں۔
پاکستان میں سرگرم گروہ خوف، جبر اور جھوٹے مذہبی نعروں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں جبکہ ان کے پاس کوئی حقیقی شرعی جواز موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: بنوں آپریشن میں افغان حمایت بے نقاب، فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستان کا فیصلہ کن اقدام
پاکستان کا اسلامی آئین اور اسلامی تعلیمات دونوں یہی پیغام دیتے ہیں کہ دہشتگردی مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔
یہ بغاوت اور سنگین گناہ ہے۔ ایسے اعمال کرنے والے اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان کا تحفظ، معصوم جانوں کا دفاع اور دہشتگردی کا انکار نہ صرف قومی بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے۔












