عالمی بینک نے خیبرپختونخوا کے پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کے ترقیاتی منصوبے پر پیشرفت کو جزوی طور پر غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 727 ملین ڈالر کی مالی معاونت کو ’خطرات‘ سے دوچار قرار دیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اگرچہ منصوبے پر عملدرآمد کی مجموعی رفتار کو تسلی بخش کہا گیا ہے، تاہم ادارہ جاتی صلاحیت، معاشی حالات، مالیاتی نگرانی اور ماحولیاتی و سماجی امور سمیت متعدد شعبوں میں خطرات برقرار ہیں۔
واشنگٹن میں قائم عالمی بینک نے بدھ کو جاری کردہ اپنی عوامی رپورٹ میں خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے ترقیاتی اہداف کے حصول کی پیش رفت کو’ جزوی طور پر غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔
اس منصوبے کا مقصد صوبے میں قابل تجدید توانائی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ متعلقہ سرکاری اداروں کی استعداد اور انتظامی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں زیر تعمیر پن بجلی منصوبے کی سرنگ منہدم، 9 مزدور ہلاک، 15 افراد تاحال لاپتا
منصوبے کے مختلف مالیاتی حصوں کی منظوری 2020 میں دی گئی تھی، جبکہ اس کی تکمیل کی ہدفی تاریخ 30 نومبر 2027 مقرر ہے۔
عالمی بینک نے منصوبے پر مجموعی عمل درآمد کی پیش رفت کو اگرچہ جزوی طور پر تسلی بخش‘ قرار دیا، تاہم اس کے مجموعی خطرات کی درجہ بندی کو ’نمایاں‘ برقرار رکھا ہے۔
یہ درجہ بندیاں ظاہر کرتی ہیں کہ منصوبے پر عمل درآمد میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ترقیاتی اہداف کے حصول اور مالی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے اہم چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
معاشی، ادارہ جاتی اور ماحولیاتی خطرات نمایاں
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیاسی و انتظامی امور اور منصوبے کے تکنیکی ڈیزائن سے متعلق خطرات کو ’اعتدال‘ کی سطح پر رکھا گیا ہے، جبکہ معاشی حالات، ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی و انتظامی معاملات اور ماحولیاتی و سماجی پہلوؤں میں خطرات ’نمایاں‘ قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں خطرات کی درجہ بندی کے لیے 4 سطحوں پر مشتمل پیمانہ استعمال کیا گیا ہے، جس میں ’زیادہ‘، ’نمایاں‘، ’اعتدال‘ اور ’کم‘ شامل ہیں۔
یہ درجہ بندی اس امکان کی بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کوئی خطرہ حقیقت کا روپ اختیار کرے گا یا نہیں اور اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات کتنے سنگین ہوں گے۔
عالمی بینک کے سسٹیمیٹک آپریشنز رسک ریٹنگ ٹول کے مطابق، 24 ستمبر 2020 کو منصوبے کی منظوری کے وقت اور مارچ 2025 میں جاری ہونے والی سابقہ عمل درآمد رپورٹ، یعنی آئی ایس آر کے سلسلہ نمبر 09، میں درج خطرات کا تقابل کیا گیا ہے۔
سیاسی و انتظامی امور، شعبہ جاتی حکمت عملی اور پالیسیوں، منصوبے کے تکنیکی ڈیزائن، ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی معاملات، ماحولیاتی و سماجی امور اور متعلقہ فریقوں سے وابستہ خطرات کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں مجموعی خطرے کی درجہ بندی منظوری کے وقت بھی ’نمایاں‘ تھی اور مارچ 2025 کی سابقہ درجہ بندی میں بھی یہی رہی۔ مجوزہ درجہ بندی میں بھی مجموعی خطرہ ’نمایاں‘ بتایا گیا ہے۔
حکومتی درخواست پر منصوبے کی تنظیم نو
عالمی بینک نے بتایا کہ حکومت کی درخواست پر منصوبے کی تنظیم نو کا عمل مکمل کیا گیا، تاکہ اس کے دائرہ کار اور مالی معاونت کو عمل درآمد کی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارت نے دریائے چناب پر متنازع پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آئی ہے اور گبرال کالام ہائیڈرو پاور منصوبے کے تحت متعدد اہم سنگ میل حاصل کیے گئے ہیں۔
ان میں تعمیراتی کام کا آغاز، زمین کے حصول میں پیشرفت اور الیکٹرو مکینیکل کاموں کی خریداری کے عمل میں پیشرفت شامل ہیں۔
عالمی بینک نے کہا کہ منصوبے کی آئندہ توجہ بروقت تکمیل، معاہدوں کے مؤثر انتظام اور متعلقہ ماحولیاتی و سماجی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز رہے گی۔
اصل مالیاتی پیکیج میں 723 ملین ڈالر سے زیادہ مختص
24 ستمبر 2020 کو منظور کیے گئے اصل مالیاتی پیکیج میں پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کی ترقی کے لیے 594 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ ماحولیاتی و سماجی انتظام کے لیے 59 ملین ڈالر اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور منصوبے پر عمل درآمد میں معاونت کے لیے 55 ملین ڈالر رکھے گئے تھے۔ بینک کے قرض پر مالیاتی اخراجات کے لیے تقریباً 15 ملین ڈالر کی رقم بھی شامل تھی۔
یوں ان مدات کے لیے مختص مجموعی رقم تقریباً 723 ملین ڈالر بنتی ہے، جبکہ رپورٹ میں منصوبے سے متعلق قرضوں اور مالی معاونت کے مجموعی حجم کو 727 ملین ڈالر بتایا گیا ہے۔
200 ملین ڈالر کے قرض میں سے صرف 3.95 ملین ڈالر جاری
عالمی بینک کی رپورٹ میں قرضوں کے اجرا کی رفتار بھی نمایاں کی گئی ہے۔ فراہم کیا جانے والا 200 ملین ڈالر کا قرض ستمبر 2020 میں مؤثر ہوا تھا، تاہم اب تک اس میں سے صرف 3.95 ملین ڈالر جاری کیے گئے ہیں، جو مجموعی قرض کے 2 فیصد سے بھی کم ہیں۔
اسی طرح رعایتی شرائط پر فراہم کیا جانے والا 240 ملین ڈالر کا ترقیاتی قرض بھی اسی عرصے میں مؤثر ہوا تھا۔ اس قرض میں سے اب تک تقریباً 34 ملین ڈالر جاری کیے گئے ہیں، جو مجموعی رقم کا لگ بھگ 14 فیصد بنتے ہیں۔
قرضوں کے اجرا کے یہ اعداد منصوبے کے لیے دستیاب مالی وسائل کے استعمال اور عمل درآمد کی رفتار کے حوالے سے اہم ہیں، تاہم رپورٹ میں ان اعداد کی بنیاد پر کسی ایک عامل کو تاخیر کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔
گبرال کالام منصوبہ 88 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا
خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کو ایک اہم ترقیاتی پروگرام کے طور پر تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد صوبے میں قابل تجدید توانائی کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچہ اور تکنیکی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
منصوبے کو 4 بنیادی اجزا کے تحت نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جن میں سرکاری شعبے کے پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین کے آبی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارتی ڈیم کی تعمیر پر تنازع، مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے
ان منصوبوں میں گبرال کالام ہائیڈرو پاور پلانٹ نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جس کی پیداواری صلاحیت 88 میگاواٹ ہے۔ یہ دریا کے قدرتی بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ ہے، جس سے سالانہ 339 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متوقع ہے۔
منصوبے کے تحت تعمیراتی کام، زمین کے حصول اور الیکٹرو مکینیکل آلات کی خریداری میں ہونے والی پیش رفت کو عالمی بینک نے اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
دریائے سوات کے طاس میں 2,000 میگاواٹ سے زیادہ پن بجلی کی صلاحیت
منصوبے کے ایک اور جزو میں دریائی طاسوں کی مرحلہ وار ترقی اور نئے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کے لیے مالی معاونت شامل ہے۔
اس سلسلے میں دریائے سوات کے طاس میں 157 میگاواٹ کے مدین پن بجلی منصوبے اور دیگر پن بجلی تنصیبات کی تعمیر کا تصور پیش کیا گیا تھا۔
دریائے سوات کے طاس میں پن بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 2,000 میگاواٹ سے زیادہ تخمینہ کی گئی ہے۔ اس علاقے میں متعدد ممکنہ منصوبوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جبکہ مزید مقامات کی نشاندہی اور ان کی فنی و معاشی جانچ بھی ضروری قرار دی گئی تھی۔
اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، تکنیکی جائزوں اور ادارہ جاتی تعاون کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
پن بجلی منصوبوں کے ساتھ شمسی توانائی کے استعمال کا بھی منصوبہ
مجوزہ پروگرام میں پن بجلی کے اثاثوں کے ساتھ تیرتے ہوئے یا زمین پر نصب کیے جانے والے شمسی فوٹو وولٹائک نظاموں کے استعمال کا تصور بھی شامل تھا۔
ان نظاموں میں شمسی پینلز کے ذریعے سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تیرتے ہوئے شمسی نظام آبی ذخائر کی سطح پر نصب کیے جا سکتے ہیں، جبکہ زمین پر نصب نظام دستیاب اراضی پر قائم کیے جاتے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ شمسی توانائی کے امکانات سے بھی فائدہ اٹھانا اور صوبے میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو وسعت دینا ہے۔
منصوبے کی تکمیل کے لیے آئندہ مرحلہ اہم
عالمی بینک کی تازہ درجہ بندی کے مطابق، منصوبے کے بعض اہم تعمیراتی مراحل میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مالی وسائل کے مؤثر استعمال، معاہدوں کے بہتر انتظام، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے اور ماحولیاتی و سماجی تقاضوں پر عمل درآمد کی اہمیت برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کا آزاد کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبے جلد مکمل کرنے کا عزم
منصوبے کی ہدفی تکمیل 30 نومبر 2027 مقرر ہونے کے باعث آئندہ مدت میں تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار اور مالی معاونت کے اجرا کی پیشرفت اہم ہوگی۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں بروقت عمل درآمد اور معاہدوں کے مؤثر انتظام پر زور دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی خطرے کی ’نمایاں‘ درجہ بندی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ منصوبے کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے متعدد شعبوں میں مزید توجہ درکار ہے۔









