ملک میں 32 سے زیادہ نئے انتظامی یونٹس کی تجویز زیر غور ہے، ایم کیو ایم رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے نجکاری آسیہ اسحاق نے کہا ہے کہ سندھ میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبے بنانے سے حکومتی امور کی نگرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ میں 16 سال سے حکومت کے باوجود کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی صورت حال تشویش ناک ہے۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے بنانے سے پہلے سیاسی و انتظامی معاملات اور منصفانہ تقسیم پر بات ہونی چاہیے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان

آسیہ اسحاق نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو سال 2010 سے 2026 تک مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے تقریباً 78 ارب ڈالر کے مساوی فنڈز ملے۔ لیکن اس کے باوجود تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شعبوں میں مطلوبہ بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کی مخالفت میں متحد ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کا مقصد کسی علاقے کو محروم کرنا نہیں بلکہ انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا اور عوام تک وسائل کی رسائی یقینی بنانا ہے۔

پیپلز پارٹی نے 78 ارب ڈالر کہاں خرچ کیے؟

آسیہ اسحاق نے کہا کہ 2010 میں منظور ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کیے گئے، لیکن سندھ میں اختیارات اور وسائل کی منتقلی کا فائدہ عام شہری تک نہیں پہنچ سکا۔

انہوں نے مختلف مالی سالوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو 16 سال میں 78 ارب ڈالرز کے فنڈ ملے ہیں جبکہ ترقیاتی پروگرام اور وفاق سے ملنے والی دیگر گرانٹس اس کے علاوہ ہیں۔

ان کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت انتظامی، مالی اور سیاسی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بہتر انتظامی نگرانی ضروری تھی، لیکن ایسا مؤثر انداز میں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے سندھ میں بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات کرنی چاہییں۔

’نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والی جماعتیں پورے سندھ کی نمائندہ نہیں‘

آسیہ اسحاق نے سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی جماعت کو یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ پورے سندھ کے عوام کی رائے کی نمائندگی کرتی ہے۔

انہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 49.8 فیصد لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالا اور اگر مخالف جماعتوں کے ووٹوں کو جمع کیا جائے تو وہ پیپلز پارٹی سے زیادہ بنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ووٹ نہ ڈالنے والے شہری بھی سندھ کے باشندے ہیں اور ان کی رائے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر نئے صوبوں کے قیام پر عوامی ریفرنڈم کرایا جائے تو سکھر، حیدرآباد اور دادو سمیت مختلف علاقوں میں اس معاملے پر عوامی رائے سامنے آ سکتی ہے۔

آسیہ اسحاق نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر عوام کو اپنی رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے۔

’نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی حمایت‘

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم لانے کی ضرورت ہوگی۔

ان کے مطابق آئین میں صوبوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔

آسیہ اسحاق نے کراچی کی مردم شماری پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت نے شہر کی حقیقی آبادی کو تسلیم کرنے میں تاخیر کی۔

انہوں نے کہا کہ 2016 میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ کے قریب تھی تاہم 2023 کی مردم شماری میں اس کو محض ایک کروڑ 30 لاکھ گنا گیا۔

آسیہ اسحاق کے مطابق ان مراحل کے بعد کراچی کی سرکاری آبادی تقریباً 2 کروڑ 3 لاکھ تسلیم کی گئی۔ انہوں نے اسے شہر کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے افراد کو روزگار اور رہائش فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی آبادی کا درست شمار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالے جانے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ کراچی کے شہریوں کی آبادی کم شمار کرنا بھی ان کے وجود اور حقوق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

’کراچی کی ترقی میں کمی، انتظامی سرپرستی کا فقدان قرار‘

آسیہ اسحاق نے کہا کہ کراچی کبھی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شمار ہوتا تھا اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں شہر میں ترقیاتی کام نمایاں تھے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کی ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے مختلف وزرائے اعلیٰ نے شہر کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا، جبکہ کراچی کو ایسی انتظامی سرپرستی حاصل نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ شہر کو منظم انداز میں نظرانداز کیا گیا، جس سے اس کی ترقی متاثر ہوئی۔ کراچی کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور جو لوگ شہر کو نقصان پہنچاتے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

’کراچی میں پانی، سیوریج اور سڑکوں کے مسائل برقرار‘

اپنے حلقے شاہ فیصل ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے آسیہ اسحاق نے کہا کہ متعدد علاقوں میں شہریوں کو پینے کا پانی گھروں تک نہیں ملتا، سیوریج کا پانی باہر نہیں نکلتا اور سڑکوں کی حالت خراب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، صاف پانی اور نکاسی آب بنیادی شہری ضروریات ہیں، لیکن ان مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کراچی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ 1951 میں کراچی کی آبادی تقریباً 6 لاکھ تھی، جبکہ اب آبادی 2 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں اس قدر اضافے کے باوجود شہر میں سرکاری جامعات اور دیگر عوامی سہولتوں کی ضروریات کے مطابق توسیع نہیں ہوئی۔

آسیہ اسحاق نے سندھ میں صحت عامہ کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بعض علاقوں میں کتے کے کاٹنے سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب نہیں ہوتی۔

انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر چیف سیکریٹری کی اہلیہ کو بھی کتے نے کاٹ لیا تھا اور اس وقت ویکسین کی عدم دستیابی کا مسئلہ سامنے آیا۔

’آصف علی زرداری نئے صوبوں کے قیام میں کردار ادا کر سکتے ہیں‘

آسیہ اسحاق نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا تھا، اس لیے اگر وہ اس مؤقف پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بقا اور استحکام سب سے اہم ہے تو انہیں نئے صوبوں کے معاملے پر اپنی جماعت کو قائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے سخت بیانات کو حتمی تصادم کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

آسیہ اسحاق نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی کے اندر بھی ایسے افراد موجود ہیں جو نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کر سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کسی مخصوص رہنما کا نام لینے سے گریز کیا۔

’چھوٹے صوبوں سے انتظامی نگرانی بہتر اور وزرائے اعلیٰ کی جواب دہی ممکن ہوگی‘

نئے صوبوں کے قیام کے ممکنہ اخراجات سے متعلق سوال پر آسیہ اسحاق نے کہا کہ ان کے خیال میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی لاگت، سندھ میں مبینہ بدعنوانی کے ایک دن کے مالی حجم کے مقابلے میں بھی کم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ ڈویژنز کو صوبوں کی حیثیت دے دی جائے تو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت دستیاب وسائل کو متعلقہ انتظامی یونٹس تک براہِ راست پہنچانے کا نظام بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق نئے صوبوں میں وزرائے اعلیٰ، صوبائی اسمبلیاں اور دیگر انتظامی ڈھانچے قائم ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ حکومتی امور کی نگرانی بھی آسان ہو سکتی ہے اور اضلاع میں شہری انتظامیہ اور میئرز کے کردار کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

آسیہ اسحاق کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں میں انتخابی حلقے نسبتاً محدود ہوں گے، جس سے روایتی سیاست دانوں پر عوامی مسائل حل کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں سندھ کی بڑی آبادی ہونے کے باوجود کراچی اور حیدرآباد کے ووٹرز کے لیے صوبائی حکومت کی تشکیل پر مؤثر اثرانداز ہونا مشکل ہے۔

’32 سے زائد ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز‘

آسیہ اسحاق نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 32 سے زیادہ ڈویژنز کی بنیاد پر نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد کی موجودہ حیثیت الگ رہے گی۔

ان کے مطابق اگر ڈویژنز کو انتظامی یونٹس یا صوبوں کی شکل دی جائے تو این ایف سی کے تحت مختص وسائل براہِ راست ان تک پہنچانے کا طریقہ وضع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کو یقین دہانی کرا دی جائے کہ نئے صوبوں کے قیام کے باوجود این ایف سی کے تحت ملنے والے وسائل کا سلسلہ جاری رہے گا تو وہ بھی اس تجویز کی حمایت پر آمادہ ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر اصل اختلاف وسائل اور ان پر اختیار کا ہے، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

’نئے صوبوں کے قیام کی کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں‘

آسیہ اسحاق نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے ان کے پاس کوئی حتمی تاریخ یا ڈیڈ لائن موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں دسمبر کے دوران پیش رفت کی بات کی جا رہی ہے، تاہم وہ اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کر سکتیں۔

’بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے آئینی ترمیم کی کوششیں ناکام‘

آسیہ اسحاق نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے بجائے بلدیاتی نظام کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے، لیکن ان کے بقول اس مقصد کے لیے ماضی میں کی جانے والی کوششوں کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر بھی وزیراعظم نے بلدیاتی نظام کے معاملے پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی، وفاقی کابینہ نے اس تجویز کی منظوری بھی دی، تاہم پیپلز پارٹی نے دوبارہ اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر اسے روک دیا۔

ان کے مطابق اس موقع پر مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ آئندہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی بات ہوگی تو ایم کیو ایم پاکستان اس کی قیادت کرے گی۔

مزید پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے

نئے صوبوں پر اتفاق نہ ہوا تو کیا ہوگا؟

آسیہ اسحاق سے پوچھا گیا کہ اگر آئندہ آئینی ترامیم میں بھی نئے صوبوں کے قیام کی تجویز شامل نہ ہوئی اور معاملہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں بھی وہ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp