ڈراما سیریل ’مٹی دے باوے‘ میں زرینہ پر تنقید، امر خان نے روایتی سوچ پر سوال اٹھا دیا

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی اداکارہ امر خان نے ڈراما سیریل ’مٹی دے باوے‘ میں اپنے کردار زرینہ کا دفاع کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ بعض ناظرین ایک عورت کے غصے کے اظہار، انکار اور اپنی حدود متعین کرنے کو قبول کرنے میں دشواری کیوں محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کردار پر تنقید کرنے والے بعض افراد کے رویوں کو ’رجعت پسندانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عورت کو بھی اپنے جذبات کا آزادانہ اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔

زرینہ پر تنقید، امر خان کا انسٹاگرام اسٹوری پر ردعمل

امر خان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنی اسٹوری میں ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے زرینہ کے کردار پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ڈراما’ مٹی دے باوے ‘ میں اداکارہ اَمر خان نے مداحوں کو رلادیا، سوشل میڈیا پر اداکاری کے چرچے

انہوں نے خواتین کے بارے میں روایتی اور محدود سوچ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عورت کے انکار کرنے یا اپنے جذبات کا اظہار کرنے کو غلط کیوں سمجھا جاتا ہے۔

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ڈیجیٹل لائف اسٹائل میگزین ’کلچٹ ‘نے ایک گرافک پوسٹ شیئر کی، جس میں سوال اٹھایا گیا کہ ناظرین بالا کے دکھ کو تو سمجھتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن زرینہ کے ساتھ ہمدردی کرنے میں نسبتاً کم دلچسپی کیوں لیتے ہیں۔

پوسٹ میں ایسی عورت کی جذباتی مشکلات کو اجاگر کیا گیا تھا جس کی زندگی، گرافک کے مطابق، بکھر کر رہ گئی ہے۔

’مجھے لگا آپ کا پورا سوشل میڈیا زرینہ کے حق میں ہے‘

کلچٹ کی پوسٹ دوبارہ شیئر کرتے ہوئے امر خان نے لکھا کہ ’ارے، مجھے تو لگا تھا کہ آپ کا پورا ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام زرینہ کے حق میں ہے۔‘

اداکارہ نے مزید کہا کہ کردار پر تنقید کرنے والے افراد کی تعداد بظاہر بہت کم ہے، تاہم ان کے نزدیک ایسے لوگوں کی سوچ ’رجعت پسندانہ‘ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت انکار نہیں کر سکتی یا اسے اپنے جذبات کے اظہار کی آزادی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

امر خان کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زرینہ کے کردار پر ہونے والی تنقید کو ناظرین کی اکثریت کی رائے نہیں سمجھتیں، لیکن اس تنقید کے پیچھے موجود سوچ کو قابلِ توجہ قرار دیتی ہیں۔

زرینہ کا کردار خواتین کے جذبات اور سماجی توقعات پر بحث

ڈراما ’مٹی دے باوے‘ میں زرینہ کا کردار اس بحث کا مرکز بن گیا ہے کہ جب خواتین غصے کا اظہار کرتی ہیں، معاشرتی توقعات کو مسترد کرتی ہیں یا مشکل حالات میں جذباتی ردعمل دیتی ہیں تو انہیں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

اس بحث میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ناظرین خواتین کی مشکلات اور جذبات کو بھی اسی طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح مرد کرداروں کے دکھ اور حالات کو سمجھتے ہیں۔

زرینہ کے کردار پر ہونے والی گفتگو نے خواتین کے فیصلوں، انکار کے حق اور جذباتی اظہار کے حوالے سے معاشرتی رویوں کو نمایاں کیا ہے۔

خواتین کرداروں کو مختلف پیمانوں پر پرکھنے کا سوال

امر خان کے ردعمل نے اس نکتے کو مزید اجاگر کیا ہے کہ خواتین کرداروں کو اپنے جذبات بیان کرنے، اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے اور مشکل حالات میں ردعمل ظاہر کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں:ڈراما سیریل ’مٹی دے باوے‘ میں شاندار اداکاری، مایا علی اینا خان اور فضل حسین کی صلاحیتوں کی مداح

ان کے مؤقف کے مطابق، کسی عورت کے انکار، غصے یا اپنی حدود متعین کرنے کو محض اس وجہ سے منفی انداز میں نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ روایتی توقعات کے مطابق برتاؤ نہیں کر رہی۔

زرینہ کے کردار پر جاری بحث محض ایک ڈرامے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اس وسیع تر سوال کو بھی نمایاں کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے جذبات، خودمختاری اور فیصلوں کو کس حد تک قبول کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp