روس کے دارالحکومت ماسکو میں انعقاد پذیر ‘تیسرے روس-افریقہ سربراہی اجلاس’ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پیوٹن نے افریقی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ روس ان کا سب سے بہترین اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ انہوں نے مغرب کو ‘نوآبادیاتی سوچ کا حامل’ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک قرضوں کے ذریعے افریقی براعظم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور ان کے وسائل کا استحصال کر رہے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بدھ کے روز افریقی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس ان کا سب سے بہترین شراکت دار ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مغرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے نوآبادیاتی ذہنیت کا حامل قرار دیا اور الزام لگایا کہ مغرب آج بھی افریقی براعظم کے وسائل کو لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور قرضوں کے جال میں جکڑ کر وہاں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
روسی صدر ماسکو میں منعقدہ تیسرے ‘روس افریقہ سربراہی اجلاس’ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس 2 روزہ عالمی تقریب میں 48 افریقی ممالک کے حکومتی وفود اور رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کیا پیوٹن کی برطانیہ کو ’پوشیدہ دھمکی‘ مغرب کے خلاف روسی دباؤ مہم کا حصہ ہے؟
اجلاس کے دوران صدر پیوٹن 22 افریقی سربراہانِ مملکت کے ساتھ علیحدہ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں تجارت، سیکیورٹی، اسلحے کی خرید و فروخت اور اناج کی فراہمی جیسے اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
یہ سربراہی اجلاس جس کا پہلا انعقاد 2019 میں ہوا تھا، اس افریقی براعظم میں روس کے سیاسی، معاشی اور فوجی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔ افریقہ میں روس کا ‘افریقہ کور’ پیراملٹری گروپ پہلے ہی فعال ہے، جبکہ روسی سرکاری میڈیا، ثقافتی ادارے اور کیمیائی و کان کنی سے لے کر توانائی کی پیداوار تک کے روسی ادارے وہاں اپنے پنجے گاڑنے میں مصروف ہیں۔
یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر مغرب کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقی اور ‘گلوبل ساؤتھ’ کے دیگر ممالک کو اپنے ساتھ ملانا ماسکو کی حکمتِ عملی کا ایک اہم ترین ستون رہا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا ’افریقہ عالمی معیشت اور سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تاہم، ایک کثیر القطبی (ملٹی پولر) دنیا کا قیام کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس راہ میں ان ممالک کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے جو اس نئی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور جو اب بھی اپنی نوآبادیاتی ماضی کی سوچ میں قید ہو کر بے تحاشا دولت سمیٹنے کے عادی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے روس کے یورپ کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں، تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں، پیوٹن
واضح رہے کہ مغربی مبصرین خود پیوٹن پر یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ وہ روس کے مفادات کے لیے افریقہ کے نوآبادیاتی ماضی کا استعمال کر رہے ہیں۔
روسی صدر نے اگرچہ کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے مغربی ممالک کی ان کوششوں کا ذکر کیا جن کے تحت افریقی ممالک کو دوبارہ قرضوں کی غلامی میں دھکیلا جا رہا ہے۔
پیوٹن کے مطابق مغرب افریقی ممالک کو سخت اور استحصالی شرائط پر مالی امداد قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے ان کی طویل مدتی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس، پیوٹن نے یقین دہانی کرائی کہ روس افریقہ سے صرف خام مال خریدنے کے بجائے وہاں مقامی سطح پر پیداوار شروع کرنے اور اپنی جدید تکنیکی و ڈیجیٹل صلاحیتیں ان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔









