خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگنے کے بعد پی ٹی آئی دور کے 74 قوانین پر نظرثانی کا اہم فیصلہ

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں منظور کیے گئے 74 قوانین کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر قوانین میں ترامیم یا انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ ان قوانین میں پراسیکیوشن سروس ایکٹ، صوبے کے بڑے تدریسی اسپتالوں سے متعلق ایم ٹی آئی ایکٹ، پولیس ایکٹ اور ارکانِ اسمبلی کے مراعات و استحقاق سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

محکمہ قانون کے ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کی ہے کہ اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں محکمہ قانون کے علاوہ داخلہ، مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو)، صحت اور تعلیم کے محکموں کے افسران بھی شامل ہیں۔ کمیٹی مختلف محکموں سے متعلق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران منظور کیے گئے 74 قوانین کا جائزہ لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج، خرچ کہاں ہوگا؟

افسر کے مطابق پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2025 کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے تحت صوبائی حکومت نے 9 مئی کے متعدد مقدمات واپس لیے تھے۔ اس قانون میں ممکنہ ترامیم یا اسے ختم کرنے سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔

اسی طرح یونیورسٹیوں سے متعلق ترمیمی ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سرکاری یونیورسٹیوں کا چانسلر بنانے کی ترمیم ختم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ اس ترمیم کی واپسی کی صورت میں گورنر خیبرپختونخوا دوبارہ صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں کے چانسلر بن جائیں گے۔

محکمہ قانون کے مطابق صوبے کے رولز آف بزنس میں بھی ترامیم کی جا رہی ہیں۔ زیرِ غور قانونی تبدیلیوں سے متعلق تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو بھیجا جائے گا، جس کے بعد متعلقہ آئینی و قانونی طریقۂ کار کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری حاصل کی جائے گی

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp