خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج، خرچ کہاں ہوگا؟

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد وفاق کی صوبے میں دلچسپی بڑھ گئی ہے اور صوبے کی ترقی کے لیے 160 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جسے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے پر بھی خرچ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا سونے کی تلاش کے ٹھیکوں پر نیب کے سنگین اعتراضات، اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

وزیراعظم شہباز شریف نے 22 اکتوبر کو قومی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی جو اس وقت صوبے میں انتظامی امور کے سربراہ بھی ہیں نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے خصوصی پیکج کی درخواست کی تھی کیونکہ صوبے کے لوگ گزشتہ 13 سال سے ترقیاتی کاموں سے محروم رہے ہیں۔

مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کے مطابق پیکج کی 70 فیصد رقم ضم اضلاع جبکہ 30 فیصد دیگر اضلاع میں خرچ کی جائے گی۔

کن منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے؟

ثمر ہارون بلور کے مطابق نئے سیٹ اپ کی اولین ترجیح امن و امان ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور پاک فوج قربانیاں دے رہی ہیں اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار بڑھائی جائے گی اور جدید سازوسامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ان کے مطابق امن و امان کی بحالی کے ساتھ حکومت ترقیاتی کاموں پر بھی توجہ دے گی۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے باجوڑ، لکی مروت اور چترال میں دانش اسکولز قائم کرنے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق پیکج کا مقصد خیبر پختونخوا میں سماجی و معاشی ترقی کو تیز کرنا اور بالخصوص ضم اضلاع سمیت دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔ اعلامیے میں تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار میں اضافے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع پر زیادہ توجہ دی جائے گی

دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے قائم خصوصی کونسل کے رکن اور ترجمان محمود جان بابر کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضم اضلاع اور دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع پر حکومت کی خصوصی توجہ ہوگی اور پیکج کا بڑا حصہ ان اضلاع پر خرچ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:: خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع وفاق کے کنٹرول میں، ایڈمنسٹریٹر کو صوبائی کابینہ کے اختیارات حاصل ہوں گے

محمود جان بابر نے کہا کہ ان اضلاع میں امن و امان بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جائے گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp