وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن قائم کرنے اور فریقین کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے کے لیے گئے تھے۔ انہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عالمی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں پاکستان کے دفاع یا کسی دفاعی معاہدے سے متعلق بات چیت نہیں ہورہی تھی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا اور ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں امن کی صورت حال مزید واضح ہوسکتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ پہلے ہی ہوچکا ہے، جبکہ قطر، ترکیہ، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان بھی دفاعی معاہدوں سے متعلق پیشرفت ہوچکی ہے۔ تاہم تہران میں ہونے والی سرگرمیاں وزارت دفاع کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی تھیں۔
مولانا اپنا ماضی بھلا کر مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن کم از کم مجھ میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں۔ میں جب بولتا ہوں تو مجھے اپنا ماضی صاف نظر آتا ہے اور خیال آتا ہے کہ کہیں مجھے طعنہ تو نہیں ملے گا؟ وزیر دفاع خواجہ آصف pic.twitter.com/HfC9Y7Jd3Y
— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک مقام ہے اور ان کے والد بھی ایک اہم شخصیت تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملکی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے وسیع القلبی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول ماضی میں مختلف جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ حکومتوں میں شامل رہی ہیں اور سیاسی تعاون بھی کرتی رہی ہیں، اس لیے اختلافات کو اس انداز میں بیان نہیں کرنا چاہیے کہ باہمی احترام متاثر ہو۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے، یہ قومی مسئلہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع نے اپنے ماضی کے فوجی حکمرانی سے متعلق مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی 2004 کی تقریر کو اس وقت کے سیاسی اور آئینی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ انتخابی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور انتخابات پر اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی نظام اور قومی مفاد کو اہمیت دینی چاہیے۔
خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید کرتے وقت اپنے ماضی کے فیصلوں اور مؤقف کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایران میں مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش کس تناظر میں کی تھی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کا حصہ رہے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ ان کے بقول مولانا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے دوران کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔
میں نے کل کا کچھ ادھار، اتار دیا ہے، تھوڑی اور اجازت دیں تو باقی بھی اتار دیتا ہوں۔
اگر مولانا کو خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو کل والی تقریر نہ ہوتی۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف pic.twitter.com/0iX8X7lw2y— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے خود ماضی میں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کی حمایت کی تھی، تاہم بعد کے حالات کے تناظر میں اپنے مؤقف پر معذرت بھی کی۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی کو خود کو ہر تنقید سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست مذہبی مؤقف کے گرد گھومتی ہے، جو ان کا سیاسی طریقہ ہے، تاہم دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے حالات اور سیاسی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حالات میں نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں اور مختلف جماعتیں اپنے سیاسی مفادات کے تحت فیصلے کر رہی ہیں۔











