وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ یہ قومی مسئلہ ہے، اس معاملے پر صوبوں کا سخت رویہ درست نہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نئے صوبوں کی جگہ ’نئے انتظامی یونٹس‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
مزید پڑھیں: چھوٹے یونٹس، بڑے سوال: محسن نقوی کے اصرار کے بعد اب کیا ہوگا؟
خواجہ آصف نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر صوبوں کا سخت رویہ میرے خیال میں درست نہیں ہے۔ یہ کسی صوبے کے خلاف اقدام نہیں ہے بلکہ اس سے وفاق مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن یا وزیراعظم کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے کسی پیشرفت کا انہیں علم نہیں ہے۔
سندھ حکومت کے مؤقف کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ سندھ حکومت کا الگ مؤقف رکھنے کا حق ہے، تاہم متفقہ فیصلہ سب کو ماننا ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مسائل کا حل عوام کا حق ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت ہونا اچھا اقدام ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چیز دنیا کے بہت سے دارالحکومتوں میں موجود ہے۔ نئی دہلی کی حکومت مکمل طور پر الگ حکومت ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد میں اس پر عمل ہورہا ہے تو باقی صوبوں میں بھی اس پر عمل کرنا آسان ہوگا۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں کوئی ہچکچاہٹ کی بات نہیں، افغانستان میں بھی 34، 35 صوبے ہیں۔














