امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے نواحی علاقے نارتھ گارلینڈ میں رہنے والی 44 سالہ ایشلے شمٹ نے سامان پہنچانے والے ڈرونز کی مسلسل بھنبھناہٹ سے تنگ آکر باغبانی اور سائیکل چلانا چھوڑ دیا ہے۔
مزید پڑھیں:سویڈن کے جزیرے پر ڈرون سے فوڈ ڈیلیوری کا آغاز
فطرت سے محبت کرنے والی ایشلے پہلے اپنے گھر کے باغیچے میں وقت گزارتی اور قریبی پارکوں میں سائیکل چلا کر کیڑے مکوڑوں، چھپکلیوں اور مینڈکوں کی قریب سے تصاویر بناتی تھیں، لیکن اب فضائی ڈیلیوری ڈرونز کی آواز نے ان سرگرمیوں سے ان کی دلچسپی متاثر کردی ہے۔
ایشلے کے مطابق ڈرونز کی تیز اور مسلسل بھنبھناہٹ انہیں شدید بے چینی میں مبتلا کردیتی ہے اور ان کے اندر خطرے کے ردعمل کو متحرک کردیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرون کے قریب آنے، گھر کے عین اوپر سے گزرنے اور دور جانے تک اس کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے، حتیٰ کہ گھر کے اندر بھی اس کی گونج محسوس ہوتی ہے۔
یہ ڈرونز علاقے کے رہائشیوں کے آن لائن خریداری کے آرڈرز پہنچاتے ہیں، تاہم ایشلے کے لیے سہولت کی یہ ٹیکنالوجی اب سکون اور فطرت سے قربت میں رکاوٹ بن گئی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی ڈرونز کو وار ٹرافی کے طور پر لگانے کا اعلان، حملوں کا جواب آئے گا، عطاتارڑ
ایمیزون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈیلیوری ڈرونز کی آواز کم کرنے کے لیے کام کررہی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی ڈرون سروسز نے سہولت اور شہری سکون کے درمیان ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا چند منٹ میں گھر تک سامان پہنچانے کی سہولت کے لیے لوگوں کو اپنے گھروں اور باغیچوں میں بھی شور برداشت کرنا ہوگا؟











