خبر رساں ادارے کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پابندیوں کے باوجود میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے اربوں ڈالر کا سامان برآمد کرتا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی تحقیق کے مطابق، ایران نے وزارت دفاع سے منسلک 5 ہزار سے زائد خفیہ اداروں کے ذریعے جنوری 2025 سے جون 2026 تک فوجی سازوسامان، دھماکا خیز مواد اور بھاری گاڑیاں درآمد کیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود چین، روس اور یورپی ممالک سمیت مختلف ذرائع سے سامان ایران پہنچتا رہا۔
یہ بھی پڑھیے چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
رائٹرز اور امریکی اسرائیلی خطرات سے متعلق مشاورتی ادارے 240 اینالیٹکس کی مشترکہ تحقیق کے مطابق، ایران نے پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک وسیع مالیاتی اور فوجی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ اس نیٹ ورک سے منسلک اداروں کے نام وزارت دفاع کے مخفف ’ ایم او ڈی‘سے شروع ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے لیے درکار خام مال، پرزے، دھماکا خیز مواد اور بھاری ٹرک خریدے جاتے ہیں۔ تحقیق میں ایک ادارے، ایم او ڈی 346428، کی نشاندہی کی گئی ہے جس نے جنوری 2025 سے جون 2026 تک تقریباً 2.3 ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان درآمد کیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی اداروں نے چین سے راکٹ ایندھن میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا اور ٹائٹینیم، روس سے ڈیٹونیٹرز جبکہ یورپی ممالک سے ٹرک، ہوائی جہازوں کے انجنوں کے پرزے اور الیکٹرانک آلات درآمد کیے۔ وسطی ایشیا سے زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے بھی سامان ایران پہنچایا گیا۔ درآمدات میں ایویکو کے سینکڑوں ٹرک اور ٹویوٹا کی بھاری گاڑیاں بھی شامل تھیں، جنہیں ایرانی فوج میزائل لانچ کرنے یا فوجی سازوسامان منتقل کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان میں سے متعدد اشیا دوہرے استعمال کی حامل ہیں، یعنی انہیں شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ ادارے بیرون ملک تیل کی غیر قانونی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے خریداری کرتے ہیں اور لین دین کے لیے بیرون ملک موجود درمیانی افراد اور کمپنیوں کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے چین، روس، شمالی کوریا اور ایران مل کر کام کررہے ہیں، نیٹو چیف
رائٹرز کے جائزہ لیے گئے 97 فیصد درآمدی سودوں میں رقم سرحد پار منتقل کرنے کے بجائے ادائیگی کا ایسا طریقہ اختیار کیا گیا جس میں براہ راست کرنسی کی منتقلی نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج نے جنگ کے دوران بھی درآمدات جاری رکھیں اور مارچ 2026 میں ان میں کمی کے بعد مئی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی حکومت کی مالی معاونت کے ذرائع محدود کر دیے ہیں، جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے رپورٹ میں بیان کردہ ترسیلات سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے چین کو علاقائی کشیدگی سے جوڑنے کی مخالفت کی۔
رائٹرز کے مطابق، ایران کی حکومت اور متعلقہ اداروں نے تحقیق سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ درآمدی ریکارڈز کی بنیاد پر بعض اشیا کی نوعیت اور اصل ملک کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں تھی، تاہم ماہرین نے نشاندہی کی کہ یہ نیٹ ورک ایران کو پابندیوں اور جنگ کے باوجود اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے ضروری سامان حاصل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔











