گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے بزدلانہ کارروائی کی گئی، جس کا پاکستان کی طرف سے واضح جواب دیا گیا۔ پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، ہمارا مؤقف واضح ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا مطالبہ کیا، وزیراعظم نے عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی، فیصل کریم کنڈی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں 13 سال کے دوران ہونے والی تباہی کو 13 دن میں ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ اسپتالوں میں بستروں کی کمی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا جواب ان لوگوں سے لیا جائے جنہوں نے 13 سال تک حکومت کی۔
دیر کالونی پشاور اسکول سانحے سے متعلق انکوائری رپورٹ کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ رپورٹ موصول ہوچکی ہے اور آج یا کل اس پر کارروائی کی جائے گی۔
تجاوزات کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ تمام قوانین غلط ہیں، تاہم جن قوانین میں خامیاں ہیں، ان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دین اور انصاف کا درس دیتے ہیں، اگر وہ خود قبضوں میں ملوث ہوں تو عوام کو کیا پیغام دیں گے۔ علما معاشرے کے لیے مثال ہوتے ہیں، لیکن اگر کوئی چوری کے ساتھ سینہ زوری بھی کرے تو یہ قابلِ افسوس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مسلسل حمایت پر شکر گزار، امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی، فیصل کریم کنڈی
صوبائی اسمبلی کی بندش سے متعلق سوال پر گورنر نے کہا کہ اس معاملے میں کچھ مسائل ہیں، تاہم اسمبلی جلد دوبارہ کھل جائے گی۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عطاء الرحمٰن کی دھمکیوں سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عطاء الرحمٰن ابھی ان کے ہم پلہ نہیں، اس لیے وہ ان کی دھمکیوں پر بات نہیں کریں گے۔











