سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ کوّے حرکت کرتی اشیا کی سمت پہچاننے اور اس بارے میں فیصلہ کرنے میں غیرمعمولی رفتار رکھتے ہیں۔ ان کا دماغ ممالیہ جانوروں سے ساخت میں مختلف ہونے کے باوجود تقریباً وہی بنیادی طریقہ استعمال کرتا ہے جس کے ذریعے انسان اور بندر معلومات کا تجزیہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘، 74 سالہ پرندے کے ہاں چوزے کی آمد متوقع
ذہانت کے حوالے سے کوّوں کی صلاحیتیں پہلے ہی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں لیکن ایک نئی تحقیق نے ان کے دماغ کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں اہم انکشاف کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق کوّے بعض بصری معلومات کا تجزیہ کرکے فیصلہ کرنے میں بندروں اور انسانوں سے کہیں زیادہ تیز ثابت ہوسکتے ہیں۔ تجربات میں کوّوں کو ایک مخصوص کام مکمل کرنے میں اوسطاً 235 ملی سیکنڈ لگے جب کہ اسی نوعیت کے تجربات میں بندروں نے تقریباً 410 سے 600 ملی سیکنڈ کا وقت لیا۔
یہ فرق محض تیزی کا معاملہ نہیں تھا۔ محققین کے مطابق کوّوں نے فیصلے کی رفتار بڑھانے کے لیے درستگی پر سمجھوتا بھی نہیں کیا، بلکہ ان کی کارکردگی بندروں اور انسانوں کے نتائج کے مقابلے میں تھی۔
کوّوں کے دماغ میں فیصلے کیسے ہوتے ہیں؟
انسانوں اور دوسرے ممالیہ جانوروں کے دماغ میں فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھنے کے لیے سائنس دان طویل عرصے سے ایک تجربہ استعمال کرتے رہے ہیں جسے رینڈم ڈاٹ موشن ٹاسک کہا جاتا ہے۔ اس تجربے میں اسکرین پر سیاہ پس منظر کے سامنے سفید نقطوں کا ایک مجموعہ دکھایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ نقطے ایک ہی سمت میں حرکت کرتے ہیں، جب کہ باقی نقطے مختلف سمتوں میں بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
تجربے میں شریک فرد یا جانور کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ نقطوں کی مجموعی حرکت کس سمت میں ہے۔ جب ایک بڑی تعداد میں نقطے ایک ہی سمت میں حرکت کریں تو جواب دینا آسان ہوتا ہے، لیکن اگر بہت کم نقطے ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہوں تو درست سمت پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
Super intelligent crow bargaining with a fish-seller for a bigger fish.pic.twitter.com/jakVe9lGzn
— Massimo (@Rainmaker1973) March 13, 2026
بندروں پر ہونے والی سابقہ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ دماغ کے نیوکورٹیکس میں موجود اعصابی خلیے وقت کے ساتھ بصری معلومات جمع کرتے ہیں۔ جیسے جیسے کسی ایک جواب کے حق میں شواہد بڑھتے ہیں اعصابی سرگرمی میں تبدیلی آتی ہے اور ایک خاص حد تک پہنچنے پر دماغ فیصلہ کرلیتا ہے۔
لیکن پرندوں کے دماغ میں ممالیہ جانوروں جیسا نیوکورٹیکس موجود نہیں ہوتا۔ اس لیے سائنس دانوں کے سامنے اہم سوال یہ تھا کہ جب پرندوں کے دماغ کی ساخت مختلف ہے تو کیا وہ بھی معلومات جمع کرکے اسی بنیادی طریقے سے فیصلہ کرتے ہیں؟
مزید پڑھیے: کوئٹہ کی ایسی مارکیٹ جہاں پرندے ہول سیل ریٹ پر ملتے ہیں
جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹیوبنگن سے وابستہ نیورو بایولوجسٹ آندریاس نیڈر اور ان کے ساتھی فلپ شمڈباوئر نے اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کوّوں پر تجربات کیے۔
کوّوں پر کیا تجربہ کیا گیا؟
محققین نے 2 ایسے کوّوں کو تربیت دی جنہیں انسانوں نے بچپن سے پالا تھا۔ ان کے سامنے ایک ٹچ اسکرین رکھی گئی جس پر سفید نقطے سیاہ پس منظر میں حرکت کرتے دکھائی دیتے تھے۔ کوّوں کو نقطوں کی مجموعی حرکت کی سمت پہچان کر اسکرین پر موجود متعلقہ ہدف پر چونچ مارنی ہوتی تھی۔
درست جواب دینے پر انہیں خوراک کے طور پر میل ورم (بھنورے کا لاروا اور کوّوں کا من بھاتا کھاجا) دیا جاتا تھا۔
محققین نے جان بوجھ کر وہی تجرباتی طریقہ اختیار کیا جو بندروں پر استعمال کیا جاچکا تھا تاکہ دونوں کے نتائج کا موازنہ کیا جاسکے۔ بنیادی فرق یہ تھا کہ بندر آنکھوں کی حرکت کے ذریعے جواب دیتے تھے جب کہ کوّے متعلقہ ہدف پر چونچ مارتے تھے۔
تجربے میں نقطوں کی حرکت کی یکسانیت بھی تبدیل کی گئی۔ بعض اوقات 81 فیصد نقطے ایک ہی سمت میں حرکت کرتے تھے جس سے سمت پہچاننا نسبتاً آسان تھا۔ دوسرے مواقع پر صرف 3 فیصد نقطے ایک سمت میں حرکت کرتے تھے جس سے درست سمت پہچاننا انتہائی مشکل ہوجاتا تھا۔ ایک مرحلے میں کسی بھی نقطے کی حرکت کسی ایک سمت سے مربوط نہیں تھی یعنی وہاں کوئی ایک درست جواب موجود نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟
نتائج میں دونوں کوّے اس وقت بھی اتفاقی اندازے سے بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے جب صرف 3 فیصد نقطے ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ وہ بہت کم بصری شواہد کی بنیاد پر بھی سمت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔
مختلف ساخت مگر فیصلہ سازی کا بنیادی طریقہ ایک جیسا
رویے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ محققین نے کوّوں کے دماغ میں اعصابی سرگرمی بھی ریکارڈ کی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دماغ کے ایک حصے، نیڈوپیلیم کاوڈولیٹریل (این سی ایل)، کے 248 اعصابی خلیوں کی سرگرمی کا مطالعہ کیا۔
یہ حصہ پرندوں کے دماغ میں اعلیٰ سطح کی معلوماتی پروسیسنگ سے تعلق رکھتا ہے اور اسے افعال کے اعتبار سے ممالیہ جانوروں کے پری فرنٹل کارٹیکس، یعنی دماغ کے اگلے حصے میں موجود فیصلہ سازی اور منصوبہ بندی سے متعلق علاقے کے مماثل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم دونوں کی جسمانی ساخت ایک جیسی نہیں ہے۔
پرندوں اور ممالیہ جانوروں کے ارتقائی راستے 36 کروڑ سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے الگ ہوچکے تھے۔ ممالیہ جانوروں کا دماغی کارٹیکس خلیوں کی تہوں پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ پرندوں کے دماغ میں متعلقہ عصبی بافتیں مختلف انداز میں منظم گچھوں کی صورت میں پائی جاتی ہیں۔
Crows can be smart, silly, and resourceful!#CritterVision #crows #crow pic.twitter.com/Hi91vIak7I
— CritterVision (@atcrittervision) October 23, 2026
اس کے باوجود تحقیق سے معلوم ہوا کہ کوّے بصری معلومات کے شواہد جمع کرکے فیصلہ کرتے ہیں، بالکل اسی بنیادی اصول کے مطابق جس کا مشاہدہ بندروں کے نیوکورٹیکس میں کیا گیا ہے۔
248 اعصابی خلیوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی یعنی 58 کی سرگرمی اس سمت کے مطابق مختلف تھی جسے کوّا بالآخر منتخب کرنے والا تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ ان خلیوں میں فیصلے سے متعلق سرگرمی اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوگئی جب نقطے اسکرین پر آنے کے تقریباً 70 ملی سیکنڈ گزرے تھے۔ کوّے کے سر کو جواب دینے کے لیے حرکت کرنے سے تقریباً 170 ملی سیکنڈ پہلے ہی دماغ میں اس فیصلے سے متعلق اشارے موجود تھے۔
محققین کے مطابق یہ سرگرمی اس بات کا ثبوت ہے کہ کوّوں کا دماغ حسی معلومات کو مسلسل جمع کرتا ہے اور پھر ان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہویا پرندے کا ایک پنکھ 28,417 امریکی ڈالرز میں نیلام، اتنا مہنگا ہونے کی وجہ کیا ہے؟
اس عمل کو سائنس کی اصطلاح میں فیصلہ سازی کا متغیر یا ڈسیژن ویری ایبل کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایک ایسا ذہنی حساب ہے جس میں کسی جواب کے حق میں دستیاب شواہد جمع ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ دماغ کسی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے۔
تحقیق کی خاص اہمیت یہ ہے کہ ارتقا کے دوران دماغ کی دو مختلف ساختوں میں فیصلہ سازی کا بنیادی طریقہ حیرت انگیز طور پر یکساں دکھائی دیتا ہے۔
کوّوں کے فیصلے اتنی تیزی سے کیوں ہوتے ہیں؟
محققین ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ کوّوں کی غیرمعمولی رفتار کا اصل سبب کون سا ایک حیاتیاتی عمل ہے۔ آندریاس نیڈر کے مطابق زیادہ امکان یہ ہے کہ ان کے جسم میں کئی مختلف عمل ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں تیزی سے انجام پاتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک ممکنہ وجہ پرندوں کے جسم اور دماغ کی ساخت ہے۔ اڑنے کے لیے وزن کم رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے پرندوں کے دماغ میں بڑی تعداد میں نسبتاً چھوٹے اعصابی خلیے موجود ہوتے ہیں۔ ان خلیوں کے ایک حصے یعنی ایکسونز کی لمبائی بھی نسبتاً کم ہوسکتی ہے۔ ایکسون وہ ریشے ہیں جو اعصابی خلیوں کے درمیان سگنل منتقل کرتے ہیں۔
نیڈر کے مطابق طویل راستوں پر اعصابی سگنل کی منتقلی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے جب کہ مختصر راستے معلومات کی ترسیل کو تیز کرسکتے ہیں۔ اس اعتبار سے چھوٹے دماغ میں اعصابی رابطوں کی ترتیب بھی رفتار میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: نیلے رنگ کے پرندے نے راتوں رات امریکی باشندے کو سپر اسٹار بنا دیا
دوسری ممکنہ وجہ پرندوں کے جسم کا نسبتاً زیادہ درجہ حرارت ہے۔ انسان کے جسم کا معمول کا درجہ حرارت تقریباً 36.6 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جب کہ بہت سے پرندوں میں یہ 41 سے 42 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔
زیادہ درجہ حرارت جسم میں ہونے والے متعدد کیمیائی اور حیاتیاتی عمل کی رفتار بڑھا سکتا ہے۔ اعصابی خلیوں میں برقی سگنل پیدا کرنے والے آئن چینلز کے کھلنے اور بند ہونے، نیز خلیوں کے درمیان پیغام پہنچانے والے کیمیائی مادوں کی ترسیل پر بھی اس کا اثر پڑسکتا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ بصارت سے لے کر معلومات کی پروسیسنگ اور پھر جسمانی ردعمل تک کئی مراحل مل کر کوّوں کی تیز رفتار فیصلہ سازی میں حصہ لیتے ہیں۔ تاہم یہ وضاحت ابھی ایک ممکنہ تشریح ہے حتمی طور پر ثابت شدہ واحد وجہ نہیں۔
کیا کوّے ہر معاملے میں انسانوں سے زیادہ ذہین ہیں؟
تحقیق کے نتائج دلچسپ ضرور ہیں لیکن ان کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ کوّے ہر قسم کے ذہنی کام میں انسانوں یا بندروں سے زیادہ تیز یا ذہین ہیں۔
سب سے اہم حد یہ ہے کہ اس تجربے میں صرف 2 کوّے شامل تھے۔ اگرچہ اس نوعیت کی پیچیدہ تحقیقات میں جانوروں کی دماغی سرگرمی ریکارڈ کرنا مشکل ہوتا ہے اور بندروں پر بعض سابقہ مطالعات میں بھی جانوروں کی تعداد کم رہی ہے پھر بھی 2 پرندوں کے نتائج کی بنیاد پر تمام کوّوں کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ 235 ملی سیکنڈ کا وقت صرف ایک مخصوص تجربے سے متعلق ہے۔ اس میں نقطوں کی حرکت کی سمت پہچان کر ہدف منتخب کرنا تھا۔ اس لیے یہ وقت کوّوں کی ہر قسم کی فیصلہ سازی کی عمومی رفتار یا ان کی ذہنی صلاحیت کی آخری حد نہیں سمجھا جاسکتا۔
This Crow is smart!! Watch the crow grab a small stick to pull a longer one from a tube, then using it to tackle the next challenge!! pic.twitter.com/nSFw1i3y7y
— Anna 🇺🇸 (@realAnn_29) June 6, 2025
اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ یہی نتائج تمام پرندوں پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ کوّے اور ان کے قریبی رشتہ دار جنہیں مجموعی طور پر کورویڈز کہا جاتا ہے اپنی غیرمعمولی ذہانت کے لیے مشہور ہیں۔ انہیں مخصوص کام سکھانا اور پیچیدہ تجربات میں شامل کرنا بھی نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ اس رفتار میں پرندوں کی عمومی حیاتیاتی خصوصیات کے ساتھ کوّوں کی مخصوص ذہانت بھی کردار ادا کرتی ہو۔
محققین کے مطابق یہ معلوم کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ آیا دوسرے پرندے بھی اسی رفتار اور طریقے سے فیصلے کرتے ہیں یا کوّوں میں کوئی خاص اعصابی صلاحیت موجود ہے۔
دماغی ارتقا کے بارے میں اہم سوال
اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو محض یہ نہیں کہ کوّے چند سو ملی سیکنڈ میں بصری معلومات کا تجزیہ کرسکتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ارتقا نے دماغ کی مختلف ساختوں میں ملتے جلتے ذہنی افعال پیدا کرنے کے لیے ممکنہ طور پر ایک جیسا بنیادی طریقہ اختیار کیا۔
پرندوں کا دماغ ممالیہ جانوروں کے دماغ کی نقل نہیں ہے۔ اس کی ساخت اور خلیوں کی تنظیم مختلف ہے، لیکن اس تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ پیچیدہ فیصلہ سازی کے لیے لازماً ایک ہی قسم کی دماغی ساخت درکار نہیں ہوتی۔
یہ دریافت سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ ذہانت، بصری معلومات کے تجزیے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں ارتقا کے دوران کس طرح وجود میں آئیں۔ مستقبل میں پرندوں کی مختلف اقسام پر تحقیق سے یہ بھی واضح ہوسکے گا کہ تیز فیصلہ سازی ان کے دماغ کی عمومی خصوصیت ہے یا کوّوں کی غیرمعمولی ذہانت کا ایک خاص مظہر۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر کے مچھیارہ نیشنل پارک میں نایاب پرندے ریاڑ کی تعداد دوگنی کیسے ہوگئی؟
فی الحال اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کوّوں کا دماغ اپنی مختلف ساخت کے باوجود پیچیدہ بصری معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے اور کم از کم اس مخصوص تجربے میں اس نے بندروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیز فیصلے کیے۔











