بگاٹی کے سی ای او کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی چوری، مالک نے چور کو کیسے ڈھونڈ نکالا؟

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف لگژری کار ساز کمپنی بگاٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میٹ ریماک کی کروڑوں روپے مالیت کی شیرون گاڑی کروشیا میں کمپنی کے ہیڈکوارٹر سے چوری ہوگئی تاہم انہوں نے اپنی گاڑی کے جدید ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے اس کا سراغ لگایا اور خود پورشے میں چور کا تعاقب کرتے ہوئے آسٹریا پہنچ گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 24 لاکھ یورو (27 لاکھ امریکی ڈالر) ابتدائی قیمت رکھنے والی بگاٹی شیرون کروشیا کے دارالحکومت زغرب کے قریب کمپنی کے پروڈکشن اور ٹیکنالوجی کیمپس سے چوری ہوئی تھی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Mate Rimac (@materimac)

واقعے کا علم اس وقت ہوا جب ایک شخص نے کمپنی کے ملازمین کو اطلاع دی کہ کوئی نامعلوم فرد شیرون گاڑی لے کر فرار ہوگیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی میٹ ریماک نے پولیس سے رابطہ کیا اور گاڑی میں نصب ٹیلی میٹری سسٹم کے ذریعے اس کی نقل و حرکت اور لوکیشن کا سراغ لگانا شروع کردیا۔

گاڑی سلووینیا کی جانب بڑھ رہی تھی جس پر ریماک اپنی پورشے 911 میں سوار ہوکر چور کے تعاقب میں نکل پڑے۔ انہوں نے ایک گروپ چیٹ کے ذریعے گاڑی کی تازہ ترین لوکیشن پولیس حکام کے ساتھ شیئر کی جس سے آسٹریا کی پولیس کو ملزم کا سراغ لگانے اور اسے گرفتار کرنے میں مدد ملی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کارساز کمپنی گیلی بذریعہ بیسٹ وے گروپ پاکستان میں داخل، 3 نئی انرجی گاڑیاں متعارف

گاڑی واپس ملنے کے بعد میٹ ریماک نے انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ شیرون برآمد کرلی گئی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کے بعد گاڑیوں میں چابیاں چھوڑنے کی اپنی عادت ترک کرنے کا اعلان بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کروشیا کو محفوظ ملک سمجھتے ہوئے ہمیشہ اپنی گاڑیوں حتیٰ کہ بگاٹی شیرون اور نیویرا کی چابیاں بھی اندر چھوڑ دیتے تھے۔ کئی سال تک ایسا کرنے کے باوجود کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم اب وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بی ایم ڈبلیو کی نئی 2027 ایکس 5 اور آئی ایکس 5: پیٹرول یا بجلی، انتخاب صارف کا

ریماک کے مطابق انہوں نے آسٹریا کے پولیس اسٹیشن میں گرفتار ملزم سے ملاقات بھی کی۔ ملزم کروشیا کا رہائشی ہے اور اس کی عمر 30 کی دہائی کے وسط میں بتائی گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ کمپنی میں ملازمت کے حصول کے لیے آیا تھا تاہم گاڑی میں چابیاں دیکھ کر اسے چوری کرکے لے جانے کا فیصلہ کیا۔

میٹ ریماک نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم گاڑی کی غیر معمولی مالیت کے باعث اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کے بقول کسی شخص کا بگاٹی، خصوصاً شیرون جیسی گاڑی چوری کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے کچھ مسائل درپیش ہیں۔ واقعے کے دوران گاڑی کو کچھ نقصان بھی پہنچا تاہم کمپنی کے مطابق اس کی مرمت کرلی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب کا اسلام آباد پولیس پر گاڑی چوری کرنے کا الزام

واضح رہے کہ بگاٹی، ’بگاٹی ریماک‘ نامی مشترکہ منصوبے کا حصہ ہے جس میں کروشیا کے ریماک گروپ کے پاس 55 فیصد حصص ہیں جبکہ باقی 45 فیصد حصص امریکی سرمایہ کاری کمپنی ’ایچ او ایف کیپیٹل‘ کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے پاس ہیں۔ یہ حصص ستمبر میں پورشے کے منصوبے سے علیحدگی کے بعد حاصل کیے گئے تھے۔ میٹ ریماک اس مشترکہ منصوبے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔

بگاٹی شیرون کو پہلی مرتبہ 2016 میں جنیوا انٹرنیشنل موٹر شو میں متعارف کرایا گیا تھا۔ 1500 ہارس پاور کی حامل اس سپر کار کی زیادہ سے زیادہ رفتار کمپنی نے 420 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کر رکھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیرا نائٹلی کی ’بلیک ڈووز‘ کا دوسرا سیزن، جاسوسی، ایکشن اور مزاح کا نیا امتزاج

مسٹر پتلو کو عدالت سے بڑا ریلیف، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت منظور کرلی

پاک بھارت ورلڈ کپ میچ کے ٹکٹوں کی ریکارڈ توڑ مانگ، 84 لاکھ درخواستیں موصول

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا