ریاضی کے بعد اب کمپوٹر سائنس کی باری: 2 بڑے اے آئی ماڈلز نے ایک بڑے مفروضے کو چیلنج کر دیا

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پہلے ریاضی اور اب کمپیوٹر سائنس کی باری آگئی کیوں کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے اے آئی ماڈلز نے ایکسپونینشل ٹائم ہائیپوتھیسز (ای ٹی ایچ) کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے خلیات سے چلنے والا کمپیوٹر تیار کرنے کی ٹھان لی

ای ٹی ایچ کمپیوٹر سائنس کا 25 سال پرانا بنیادی تصور ہے جس کے مطابق بعض پیچیدہ کمپیوٹنگ مسائل کو حل کرنے کے لیے تقریباً ہر ممکنہ حل کو آزمانا پڑتا ہے۔ اس نظریے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر سائنس اور بیالوجی میں سینکڑوں تعلیمی تحقیقات اسی تھیوری پر انحصار کرتی ہیں۔

یہ دعویٰ اے آئی کی ترقی کے اس سلسلے میں تازہ ترین ہے جس نے اکیڈمیا میں ہلچل مچا دی ہے اور خاص طور پر ریاضی دانوں میں انسانی ذہانت کی اہمیت اور مستقبل کے حوالے سے گہری سوچ کو جنم دیا ہے۔

ای ٹی ایچ کیا ہے؟

تصور کریں کہ آپ ایک بہت بڑی پزل حل کرنے جا رہے ہیں اور آپ اسے کسی شارٹ کٹ سے حل نہیں کر سکتے۔ یعنی آپ کو نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکنہ زاویہ اور امتزاج آزمانا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے: کمپیوٹر اور موبائل دیکھتے ہوئے گردن پر 27 کلو وزن کا دباؤ: درد و اکڑن سے بچنے کے لیے 5 مفید ترین ورزشیں

ای ٹی ایچ کا دعویٰ ہے کہ ان مشکل مسائل کو حل کرنے کے لیے آپ کو بنیادی طور پر ہر ایک امتزاج یا اس کے قریب آزمانا پڑتا ہے جس میں وقت بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔

مفروضے کے کلیدی سائنسدانوں کا ردعمل

ای ٹی ایچ سے وابستہ 3 مرکزی محققین رسل امپاگلیازو، راماموہن پاتوری اور ریان ولیمز جو اے آئی کمپنیوں کے دعوؤں کے آزادانہ ریویو کو منظم کرنے میں مدد کر رہے ہیں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

ریان ولیمز جو ای ٹی ایچ کے دیرینہ ناقد رہے ہیں نے خود کو درست ثابت ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس واقعے کو اس شعبے میں ایک بڑے انقلاب کا حصہ قرار دیا۔

دوسری جانب یو سی سان ڈیاگو سے راماموہن پاتوری نے حیرت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ای ٹی ایچ پر مبنی موجودہ تحقیق ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی تخلیقی صلاحیت کی بالادستی تحقیق کی رہنمائی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

رسل امپاگلیازو کا ردعمل بے چینی پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے کہ یہ ثبوت کسی انسان نے دریافت کیا ہوتا اور اپنے سوچنے کے عمل کی وضاحت کی ہوتی۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ ماڈلز انسانوں کو صرف اے آئی کی دریافتوں کی تصدیق تک محدود کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت ذہنی صحت سمیت کئی شعبوں میں سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے، اقوام متحدہ سائنسی پینل رپورٹ

محققین نے تحقیقی آلات پر ٹیک جنات کی اجارہ داری پر بھی خبردار کیا۔ ان کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ نتائج میں گہری وضاحتوں کی کمی ہوتی ہے جو سائنسی تفہیم کو متاثر کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp