پاکستان میں جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلام آباد میں پہلی بار دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے پتہ نکالنے کا آپریشن کامیابی سے انجام دیا گیا۔ اس طریقہ کار میں سرجن ایک مقام پر موجود رہے جبکہ مریض کا آپریشن دوسرے مقام پر کیا گیا۔
یہ تاریخی آپریشن شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے رجسٹرار اور معروف روبوٹک سرجن پروفیسر ڈاکٹر سید تنصیر اصغر نے انجام دیا۔ انہوں نے 30 اکتوبر کو مستقبل کی صحت کی دیکھ بھال کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کے دوران گندھارا ورثہ و ثقافت مرکز اسلام آباد میں قائم روبوٹک نظام کے ذریعے آپریشن کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنا انسانی مداخلت روبوٹک سرجری سے پِتّے کا کامیاب آپریشن اہم سنگ میل قرار
اس دوران مریض کا آپریشن کلثوم انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں جاری تھا، جبکہ سرجن کانفرنس کے مقام پر موجود رہ کر روبوٹک نظام کے ذریعے جراحی کے آلات کو قابو کر رہے تھے۔ یوں سرجن اور مریض کے درمیان جغرافیائی فاصلے کے باوجود آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔
اس موقع پر کنسلٹنٹ روبوٹک و عروقی سرجن ڈاکٹر ثناء شرافت علی نے مریض کی جانب سے اہم طبی معاونت فراہم کی۔ انہوں نے کلثوم انٹرنیشنل اسپتال میں روبوٹک نظام کے مریض سے منسلک حصے کو سنبھالا اور آپریشن کے دوران ضروری معاونت فراہم کی۔
یہ کامیابی شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق کے اس وژن کا عملی اظہار ہے، جس کا مقصد روبوٹک سرجری اور مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا اور طبی شعبے میں اعلیٰ معیار کو فروغ دینا ہے۔
ان کی نگرانی میں اسلام آباد میں پہلی بار روبوٹ کی مدد سے دور بیٹھ کر آپریشن کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یونیورسٹی میں روبوٹک سرجری اور مصنوعی ذہانت کے پہلے مرکز کے قیام کی منظوری بھی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہسٹوٹرپسی: کینسر کے مریضوں کے لیے امید افزا خبر، بغیر آپریشن انقلابی علاج دریافت
اس کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید روبوٹک ٹیکنالوجی اور فوری رابطے کے نظام کے ذریعے سرجن فاصلے پر موجود رہتے ہوئے بھی ایک مربوط طبی ٹیم کے ساتھ پیچیدہ جراحی انجام دے سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان میں روبوٹک سرجری، طبی تربیت اور جدید طبی سہولیات کے فروغ کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں موجود مریضوں کو بھی ماہر سرجنز کی خدمات فراہم کرنا ممکن ہوسکے گا، جبکہ سرجن کو آپریشن کے مقام پر جسمانی طور پر موجود ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر سید تنصیر اصغر اور ڈاکٹر ثناء شرافت علی کا یہ اشتراک پاکستان میں جدید طبی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور اسے فروغ دینے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ اسلام آباد نے روبوٹک سرجری اور طبی تحقیق کے شعبے میں بھی ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔











