کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ گوجرانوالہ میں شادی کے روز دُلہن کو قتل کرنے کا مرکزی ملزم مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔
سی سی ڈی ترجمان کے مطابق، واقعے کا مرکزی ملزم سرفراز گرفتاری سے قبل دیگر ملزمان کے ساتھ کراچی میں روپوش تھا جہاں سے اسے حراست میں لیا گیا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جب سی سی ڈی کی ٹیم ملزم کو واپس منتقل کر رہی تھی تو ان کے قافلے پر حملہ کر دیا گیا، اور اس مبینہ مقابلے کے دوران سرفراز اپنے ہی روپوش ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ گرفتاری سے قبل ملزمان (جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی) مسلسل اپنے ٹھکانے بدل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے ولیمے پر جانے والے جوڑے پر فائرنگ، شادی کے اگلے ہی روز دلہن قتل
واضح رہے کہ گوجرانوالہ شہر میں رخصتی کی تقریب کے بعد واپس لوٹتے ہوئے دُلہن کی گاڑی کو روک کر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی تھی۔ اس واردات کا الزام مرکزی ملزم پر عائد کیا گیا تھا جس کا رشتے کی درخواست خاندان کی جانب سے مسترد کر دی گئی تھی۔
سی سی ڈی گوجرانوالہ کے مطابق، مقتولہ کے والد کی مدعیت میں سی سی ڈی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ سی سی ڈی نے 3 ملزمان سرفراز، اس کی کزن خاتون اور ایک نامعلوم ساتھی کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 311، 109 اور 34 کے تحت پرچہ درج کیا تھا۔
جرائم کے خلاف کارروائیاں اور مقابلے
ایک روز قبل بھی سی سی ڈی نے پنجاب کے ضلع قصور میں ’ایک مقابلے کے دوران‘ دو مبینہ ڈاکوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملزمان قصور، لاہور اور شیخوپورہ پولیس کو ڈکیتی، ہاؤس ڈکیتی اور قتل کی درجنوں وارداتوں میں مطلوب تھے۔
اسی طرح 29 اکتوبر کو محکمے نے دعویٰ کیا تھا کہ 10 سالہ بچے کے قتل کیس میں ملوث ایک شخص بھی مبینہ مقابلے میں مارا گیا ہے۔
صوبے میں جرائم کی شرح میں کمی کا دعویٰ
رواں ہفتے کے آغاز میں، سی سی ڈی نے ستمبر 2023-24 اور ستمبر 2025-26 کے جرائم کے اعداد و شمار کا موازنہ جاری کیا تھا، جس میں پنجاب بھر میں ڈکیتی اور موٹر سائیکل چوری سمیت مجموعی جرائم میں 63 فیصد کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شادی کے چند ماہ بعد نئی نویلی دلہن قتل، شوہر اور گرل فرینڈ کی خوفناک سازش بے نقاب
ترجمان سی سی ڈی کے مطابق، ستمبر 2023-24 کے مقابلے ستمبر 2025-26 میں لاہور میں جرائم میں سب سے زیادہ یعنی 78 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ فیصل آباد 68 فیصد کمی کے ساتھ دوسرے اور ساہیوال 66 فیصد کمی کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ ملتان میں 59 فیصد جبکہ گوجرانوالہ اور بہاولپور میں بالترتیب 58 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح شیخوپورہ میں 57 فیصد، سرگودھا میں 56 فیصد، راولپنڈی میں 52 فیصد اور ڈیرہ غازی خان میں جرائم کی شرح میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔










